‫‫کیٹیگری‬ :
23 February 2016 - 22:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9100
فونت
آیت الله مکارم شیرازی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس اشارہ کے ساتھ کہ اختلاف و تفرقہ پھیلانا اسلامی قوم کی ناکامی کا سبب ہوتا ہے بیان کیا : مام اسلامی قوم کو خداوند عالم کی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیئے اور اسی وجہ سے شیعہ اور سنی کسی کے بھی عقاید کی بے احترامی جائز نہیں ہے ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی مرجع تقلید نے مدرسہ امام سجاد علیہ السلام میں عراق کے قبائلی سرداروں کے ساتھ منعقدہ ملاقات میں اس بیان کے ساتھ کہ اس طرح کی ملاقات شیعہ و سنی علماء کے درمیان رابطہ اور تبادل نظر کا اچھا موقع ہے اظہار کیا : عراق کی عوام اور وہاں کے علماء شجاع و صاحب علم و کمال ہیں اور اس ملاقات سے ہم بہت خوش ہیں ۔

انہوں نے آیت «وَالَّذینَ جاهَدوا فینا لَنَهدِیَنَّهُم سُبُلَنا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ المُحسِنینَ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس آیت پر عمل کرنے کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت جانا ہے اور وضاحت کی : خداوند عالم اس آیت میں فرماتا ہے تمہارے لئے دو امر پایا جاتا ہے ؛ اول خدا کے راہ میں جہاد کرو جس کو بصورت مطلق بیان کیا گیا ہے جس میں علمی و عملی و فوجی جہاد شامل ہوتا ہے اور دوسرا امر اخلاص ہے کہ جب انسان ان جہاد کے راہ میں قدم بڑھاتا ہے تو خداوند عالم انسان کی ہدایت کے لئے راستہ فراہم کرتا ہے ۔    

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے وضاحت کی : ہدایت کے دو معنی ہیں ؛ معنی اول یہ ہے کہ راستہ بتانا اور مقصد دکھانا اور معنی دوم یہ ہے کہ شخص کا ہاتھ پکڑ کر مقصد تک پہوچانا ہے کہ اس میں معنی دوم ہم انسان کے لئے عام ہے کیونکہ معنی اول خداوند عالم کے انبیاء و صالحان کے لئے ہے کہ جو جہاد و اخلاص کے ساتھ ہیں ؛ لیکن جو جہاد و اخلاص کے سلسلہ میں اس آیت میں بیان ہوا ہے اور اس میں تاکید کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے وہ خداوند عالم کی طرف سے انسان کو کامیابی تک پہوچانے کے وعدہ کے معنی میں ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ خداوند عالم کی طرف سے انسان کے لئے دئے گئے وعدوں میں خلاف ورزی نہیں پائی جاتی ہے اظہار کیا : یہ انسان ہے کہ جو وعدہ دیتا ہے لیکن اکثر اوقات جہل و عجز کی وجہ سے اپنے وعدے پر عمل کی قدرت نہیں رکھتا ہے ، لیکن خداوند عالم کبھی بھی اپنے دئے گئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور وہ تمام چیزیں جس کی قرآن کریم اور روایات میں وعدے دیئے گئے ہیں اس پر پوری طور سے عمل کرتا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے عراق کے خطے کی موجودہ صورت حال اور اس حساس و مشکل حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اس طرح کی مشکلات و سختی عوام کے لئے پہلے کبھی پیش نہیں آئی ہے لیکن خطے کی عوام لایزال الہی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے ان مشکلات پر غالب آئے ہیں اور خداوند عالم کے شکر گزار ہیں کہ اس وقت اسلامی ثقافت دنیا پر چھا رہی ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : امریکا کے ایک ممتاز شخص نے کہا تھا « امریکا میں ایک روز ایسا آئے گا کہ آذان کی آواز اس ملک کی لاوڈ اسپیکر سے آئے گی » کہ یقینا ایسا ضرور ہوگا اور اسلام قدم بہ قدم ترقی کرے گا لیکن اس کے لئے یکجہتی و اتحاد کی شرط ہے ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس اشارہ کے ساتھ کہ اختلاف و تفرقہ پھیلانا اسلامی قوم کی ناکامی کا سبب ہوتا ہے بیان کیا : قرآن کریم کی بہت ساری آیت میں اس سلسلہ کی تاکید کی گئی ہے ؛ اس وجہ سے تمام اسلامی قوم کو خداوند عالم کی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیئے اور اسی وجہ سے شیعہ اور سنی کسی کے بھی عقاید کی بے احترامی جائز نہیں ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬