07 June 2013 - 18:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5498
فونت
انقلاب اسلامی کا عشرہ سوم( 13)؛
خبرگزاری رسا - برلین اسلامی سنٹر کے ذمہ دار نے کہا: آیت الله خامنہ ‎ای نے اسلامی تہذیب کا نظریہ پیش کر کے مغربی لیبرل ڈیموکراسی کو اس طرح متاثر کیا کہ یورپ کے پاس اس سے مقابلہ کا مستحکم طریقہ موجود نہیں ۔
امام خميني(ره)  وآيت الله خامنه‎ اي

 

برلین اسلامی سنٹر کے ذمہ دار صلاح الدین ترک ایلماز نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں کہا: امام خمینی(ره) نے انقلاب سے پہلے اور انقلاب اسلامی ایران کی  پیروزی کے بعد بھی دنیا کے مستضعفین کی بیداری پر تاکید کی، یہاں تک اپ کا یہ نظریہ انقلاب اسلامی کے اھم ترین ناروں میں بدل کر پوری دنیا کے کانوں تک پہونچ گیا، جبکہ دنیا نے اپ کے اس پیغام دنیا تک پہونچنے اور ملتوں کی بیداری سے روکنے انتھک کوشش کی ۔


انہوں نے مزید کہا: دیگر ممالک میں انقلاب بھیجنے کے حوالہ سے امام خمینی کا مقصد در حقیقت اسی بیداری کو ارسال کرنا تھا، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پوری دنیا بیدار ہوکر زورگو قدرتوں کے مقابل اپنے حقوق کا دفاع کرے ، اور اسی بنیاد پر سامراجی طاقتوں نے اسلامی ممالک کے اطراف میں جہالت و ظالم و جور کی دیواریں اٹھائیں تاکہ امام خمینی کی آواز ایران سے باہر نہ نکل کر ان کے کانوں تک نہ پہونچ سکے ۔


صلاح الدین ترک ایلماز نے کہا: اگر مبالغہ نہ کیا جائے تو امام خمینی کے انتقال کے بعد بھی پیغمبر اسلام(ص) کے انتقال کے بعد جیسا زمانہ پیش ایا ، کیوں کہ  امام خمینی(ره) بھی معاشرہ میں رسول خدا (ص) کے پیغام کے احیاء گر تھے ۔


برلین اسلامی سنٹر کے ذمہ دار نے واضح طور پر کہا: حضرت آیت الله خامنه ای نے امام خمینی(ره) کے انتقال کے بعد عوام کے سامنے اپ کے پیغام کی تفسیر کی ، اور جیسے امام علی (ع) مرسل اعظم(ص)  کے انتقال کے بعد انحضرت کے راستہ پر گامزن رہے حضرت آیت الله خامنه ای بھی اسی طرح امام خمینی(ره) کے انتقال کے بعد  اپ کے نقش قدم پر گامزن رہے ۔

 

انہوں نے یاد دہانی کی : ولایت فقیہ لوگوں کی بیداری کا وسیلہ ہے جس سے پوری دنیا کو اشنا کیا جانا لازمی ہے ، آیت الله خامنه ای نے اس الھی راستہ کو کچھ اس طرح مقام عمل میں کر دیکھایا کہ سامراجیت کی اھنی دیواریں گر گئیں اور اپ کی رھبری باعث ہوئی کہ امام خمینی(ره) کا پیغام پوری دنیا کے کانوں تک پہونچ جائے ۔


صلاح الدین ترک ایلماز نے کہا: اگر رھبر معظم انقلاب اسلامی کی تقریروں پر غور کیا جائے تو امریکا اور اسرائیل سے مقابلہ کے لئے مختلف اسٹراٹیجیک محسوس کریں گے ، اس اسٹراٹیجیک کا پہلا قدم ولایت فقیہ پر استوار سیاسی نظام کی برقراری ہے جو انصاف طلب حکومت اور حکومت حضرت مهدی (عج) کے قیام کا پیش خیمہ ہے  ۔


انہوں نے ایران کی خارجہ پالیسی میں آیت الله خامنه‎ ای کی دوسری اسٹراٹیجیک کو بیان کرتے ہوئے کہا :  اپ کی دوسری اسٹراٹیجیک جس کا حال ہی میں تذکرہ کیا گیا اور یوروپ میں بھی بہت زیادہ اس کا اثر رہا، مغربی لیبرل ڈیموکراسی کے مقابل اسلامی تہذیب کو ائڈیل قرار دیا جانا ہے ،اس بات نے در حقیقت مغرب دنیا کو کچھ اس طرح مشکلات سے روبرو کردیا کہ ان کے مقابل اس سے مقابلہ کا کوئی راستہ نہیں تھا ، اور اس بات نے یوروپ کی نظریاتی سرحدوں کو توڑ کر رکھدیا ۔


برلین اسلامی سنٹر کے ذمہ دار نے مزید کہا: آیت الله خامنه‎ ای کی تیسری اسٹراٹیجیک مغرب کے خلاف جارحانہ حکمت عملی ہے، آیت الله خامنه‎ ای نے ھمیشہ اس بات پر تاکید کی کہ ھمیشہ وہ حملہ ور اور سوال کرنے والے اور ھم جوابگو نہ رہیں بلکہ ھم بھی دیکھائیں کہ ھمارے ذھنوں میں بھی سوالات ہیں جسے دنیا سنے اور اس پر توجہ کرے ۔


صلاح الدین ترک ایلماز نے اخر میں تاکید کی: اسرائیل اور امریکا سے مقابلہ میں آیت الله خامنه‎ ای کی ایک اور اسٹراٹیجیک، سیاسی اور اقتصادی رزم کا اعلان ہے ، سیاسی رزم کا مقصد اسلامی ںظام حکومت سے دنیا کو اشنا کرانا ہے ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬