‫‫کیٹیگری‬ :
05 July 2014 - 16:18
News ID: 6977
فونت
روزه‌ داری کے احکام (4)؛
رسا نیوزایجنسی - مرکز ترویج احکام کے رکن نے کہا : فقہاء نے انجیکشن سے روزہ باطل ہونے کا فتوی نہیں دیا ہے، مگر بعض فقہاء، ماه مبارک رمضان میں بناء بر احتیاط انجیکشن اور گلوکوز کے استعمال کو منع کرتے ہیں ۔
روزه‌ داري کے احکام

 

مرکز ترویج احکام کے رکن حجت ‌الاسلام حسین وحید پورنے رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں روزہ دار کے لئے انجیکشن لگوانے کا حکم بیان کرتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ بعض انجیکشن آرام دِہ اور بعض طاقت کے ہوتے ہیں کہا : فقہاء نے انجیکشن سے روزہ باطل ہونے کا فتوی نہیں دیا ہے ۔ 

 

انہوں نے مزید کہا : بعض وہ فقہاء جو ماہ مبارک رمضان میں انجیکشن یا گلوکوز کے استعمال کے مخالف ہیں ان کے مقلدین ان فقہاء کی تقلید کرسکتے ہیں جو روزے کی صورت میں انجیکشن یا گلوکوز کے استعمال کو جائز جانتے ہیں ۔

 

مرحوم حضرت آیت الله شیخ جواد تبریزی کے دفتر میں استفائات کے سابق ذمہ دار نے طاقت کیلئے استعمال نہ ہونے والے انجیکشن کے استعمال کی جانب اشارہ کیا اور کہا : ماہ مبارک رمضان میں طاقت کیلئے استعمال نہ ہونے والے انجیکشن کو لگوانے میں کوئی ھرج نہیں ہے اور اس میں احتیاط کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ 

 

مرکز ترویج احکام کے رکن نے یہ کہتے ہوئے کہ ماہ مبارک رمضان میں ڈینٹیسٹ کے پاس جانے اور دانتوں کے بھروانے میں کوئی ھرج نہیں کہا : فقط روزہ دار خیال رکھے کہ کوئی چیز اس کے حلق میں نہ جانے پائے ۔

 

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے دانتوں کے بھروانے میں گندا پانی زیادہ نکلتا ہے کہا : اگر روزہ دارہ یہ احتمال دے کہ دانتوں کے بھروانے میں چیزیں اس کے گلے میں جاسکتیں ہیں تو دانٹ نہ بھروائے ، ہاں اگر وہ اس سے آگاہ نہیں تھا اور لاعلمی سے چیزیں اس کے گلے تک پہونچ جائیں تو روزہ باطل نہیں ہے ۔ 

 

حجت‌ الاسلام وحید پور نے بیان کیا : ماہ مبارک رمضان میں جان بوجھ کر دانتوں کا خون پی جانے والے کا روزہ باطل ہے اور اسے قضا و کفارہ دونوں ہی ادا کرنا پڑے گا، لیکن اگر کسی نے مسئلہ کی لاعلمی کی بناء پر خون پی لیا تو اس پر فقط روزے کی قضا واجب ہے ۔ 

 

انہوں نے انکھوں کے ڈراپس کے سلسلے میں یہ کہتے ہوئے کہ انکھوں کے پیچھے موجود سوراخ سے یہ قطرے حلق میں جاسکتے ہیں کہا : اگر روزہ دار آگاہ ہو کہ یہ قطرے اس کے حلق میں پہونچ سکتے ہیں تو ھرگز اس کا استعمال نہ کرے، لیکن اگر مردد ہو یا لاعلم ہو اور اتفاقا حلق تک پہونچ جائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہے ۔

 

حجت‌ الاسلام وحید پور نے کہا : اگر انکھوں کے ڈراپس کا حلق تک پہونچنے کا امکان ہو تو بہتر ہے کہ روزہ دار اسے افطار کے بعد استعمال کرے اور اگر ڈاکٹر ٹائم بدلنا مناسب نہ سمجھے تو معینہ اوقات میں ڈراپس کا استعمال کریں اور بعد میں اس روزہ کی قضا انجام دیں مگر کفارہ نہیں ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬