‫‫کیٹیگری‬ :
03 February 2015 - 20:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7762
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت‎ الله جوادی آملی نے اس تنقید کے ساتھ کہ بعض لوگ اسلامی بات کرتے ہیں لیکن قافونی فکر کرتے ہیں بیان کیا : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تیس ، چالیس سال زحمت کی اور ہم عالم ہو گئے ہیں ، یہ وہی بات ہے جو قارون کہتا ہے کہ میں نے اپنے مال کو اپنے علم و زحمت سے حاصل کی ہے ۔
آيت الله جوادي آملي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت ‎الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ قرآن کریم کے تفسیری درس میں سورہ مبارکہ غافر کی تفسیر میں گذشتہ بحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : فرشتہ مختار ہونے کے با وجود شہوت و غضب نہیں رکھتے ہیں ، تکلیف صرف اختیاری صورت میں ہے ، اگر موجود مختار ہو تو اس کے لئے غلطی کا امکان پایا جاتا ہے ، ایسے موجود مثال کے طور پر جنات اور انسان کے لئے انبیا کے ھدایت کی ضرورت ہے لیکن یہ کہ تمام فرشتے یہاں تک کہ زمین کے فرشتوں کے لئے بھی ایسا ہو اس سلسلہ میں ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : انسان کو اپنی حفاظت کے لئے پہلے دیکھنا ہوگا کہ انسان کے لئے فائدہ اور نقصان کس چیز میں ہے تا کہ اس سے اپنی حفاظت کرے ، اگر انسان سے کہا جائے کہ اپنے آنکھ کے فلاں پردہ کی حفاظت کرنا چاہیئے تو پہلے اس کو پہچانیئے اس کے بعد اس کی حفاظت کیجئے ، نیک عمل کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہے حقیقت میں علم کی سرحد عمل سے الگ ہے یہ مثال میں کہا گیا ہے ۔

قرآن کریم کے مشہور و معروف مفسر نے اس اشارہ کے ساتھ کہ انسان کے باہری حصہ میں آنکھ و کان الگ ہے ہاتھ و پیر سے بیان کیا : ہم لوگوں کے پاس ایک عقل عملی ہے اور ایک عقل نظری ، عقل عملی ارادہ و عزم و نیت و اخلاص کا متولی ہے اور عقل نظری جزم و علم کا متولی ہے ، ہم جب تک یہ نہ سمجھ پائیں کہ ہمارے اندر کیا ہے اس وقت تک ہماری حفاظت ممکن نہیں ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : جب تک معرفت نفس نہیں ہوگا اس وقت تک قوای نفس اور قوای نفس کی آزمائش نہیں ہے اور حفاظت ممکن نہیں ہے ، ممکن ہے کہ انسان ایک چیز کو جانتا ہو اور اس کے بعد گناہ کرے ، جیسے یہ کہ انسان سو فی صد سانپ اور بچھو کو دیکھتا ہے لیکن اس سے فرار نہیں کر سکتا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، حفاظت معرفت کے بعد ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬