05 March 2015 - 15:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7876
فونت
آیت اللہ النمر کے گھرانے نے؛
رسا نیوز ایجنسی - سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر الّنمر کے بھائی محمد النّمر نے آیت اللہ شیخ باقر النمر کی سزائے موت کے حکم کی توثیق کی خبر کی تردید کی ہے ۔
آيت اللہ باقر نمر النمر

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر الّنمر کے بھائی محمد النّمر نے عرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے آیت اللہ شیخ باقر الّنمر کی سزائے موت کا حکم نشر کی جانے کی خبر کی تردید کی ہے ۔


محمد النّمر نے ٹوئیٹر پر لکھا : ان کے بھائی کی سزائے موت کے حکم کی توثیق کئے جانے کے بارے میں پیش کی جانے والی خبروں اور رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں پائی جاتی-


انھوں نے کہا : کیس ابھی عدالت میں ہے اور اس سلسلے میں ابھی کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے-


واضح رہے کہ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے گذشتہ سال پچّیس مارچ کو معروف عالم دین آیۃاللہ شیخ باقر الّنمر کے خلاف مختلف قسم کے بے بنیاد الزامات منجملہ مذہبی فساد و فتنہ پھیلانے، مفرورملزمان کے ساتھ رابطے، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے قتل عام کی ترویج، نماز جمعہ کے خطبوں میں اشتعال انگیزی اور دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت نیز خاص طور سے ملک سے غداری کرنے جیسے الزامات عائد کرکے انھیں سزائے موت دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد کچھ ماہ بعد، سعودی عرب کی عدالت نے بھی ان الزامات کے پیش نظر آیۃاللہ شیخ باقر الّنمر کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا تھا -


سعودی عرب کی عدالت کے اس حکم کے بعد نہ صرف اس ملک بلکہ عالمی سطح پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا بلکہ عرب انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اس فیصلے کو حیرت انگیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ سعودی عرب میں سزائے موت، انسانی اقدار و بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے-


یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب کے معروف عالم دین آیت اللہ شیخ باقر الّنمر کے خلاف تمام الزامات، بالکل بے بنیاد ہیں اور خود انھوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔


آیت اللہ شیخ باقر نمر کو جولائی سن دو ہزار بارہ میں سعودی سیکورٹی فورس نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا-


قابل ذکر ہے کہ ملت تشیع کے جا‏ئز مطالبات اور شیعہ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنا آیت اللہ شیخ باقر نمر کا واحد جرم ہے جس کی اتنی بڑی سزا ان کو دی جارہی ہے-


سعودی عرب میں سیاسی مخالفین کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے جو سالہا سال سے جیلوں میں بند ہیں-
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬