05 March 2015 - 16:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7877
فونت
جے ایس او پاکستان:
رسا نیوز ایجنسی - جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے اپنے ایک روزہ اجلاس میں کہا: رسول اسلام(ص) نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔
جے ايس او پاکستان

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جے ایس او ملتان پاکستان کی مرکزی کابینہ کا ایک روزہ اجلاس جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر وفا عباس کی صدارت میں جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان میں منعقد ہوا جس میں مرکزی سینئر نائب صدر حُسین چغتائی، مرکزی جنرل سیکرٹری عمران حیدر جواد، مرکزی تعلیم سیکرٹری ذیشان حیدر ، مرکزی رابطہ سیکرٹری حسن رضا، مرکزی فنانس سیکرٹری محمد یونس رضا عسکری اور مرکزی اطلاعات سیکرٹری علی رضا بٹ کے ساتھ صوبائی رہنما شیعہ علماء کونسل پاکستان، پنجاب محترم بشارت حسین قریشی نے خصوصی شرکت کی۔


اجلاس کے ایجنڈے میں تعلیمی پروگرامز ، مُلک میں جاری تعلیمی بحران کے حل میں کردار، ایجوکیشن کے نقائص اور اُن کا حل، تنظیمی وسعت ، دورہ جات، تنظیمی کارکردگی کے جائزہ اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس کے اعلان سمیت مختلف اہم امور اہم شامل تھے ۔


وفا عباس نے اپنے اختتامی خطاب میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مُلک میں جاری تعلیمی بحران میں حکومت قصور وار ہے، پڑھا لکھا نوجوان ہی مُلک و ملت کا قیمتی سرمایا ہے کہا: حکومت کو چاہئے کہ مُلک میں اعلیٰ تعلیمی نصاب فراہم کرے اور تعلیمی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرے امتحانات کا مسلسل ملتوی ہو جانا حکومتی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ معاشرہ میں تعلیمی اصلاحات لانے کی خاطر نظریہ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کو اُجاگر کرنے کیلئے تقریری و تحریری مقابلہ جات منعقد کروائے جائیں مختلف پسماندہ علاقوں میں ایسے پروگرام تشکیل دیے جائیں کہ والدین میں بچوں کو تعلیم دینے کا شعور پیدا ہو۔


انہوں نے مزید کہا: ہم تعلیمی میدان میں انقلاب کی راہیں تلاش کرنے نکلے ہیں اور مُلک کی حالیہ دہشتگردی سے مُلک دن بہ دن زوال کی طرف گامزن ہے جس کو تعلیم سے ہی شکست دی جا سکتی ہے اور انشاء اللہ ہم بندوق کو قلم کی طاقت سے شکست دیں گے کیونکہ علم سے بڑی کوئی اور نوجوان کے حوصلہ سے مضبوط کوئی طاقت نہیں ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬