26 March 2015 - 14:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7957
فونت
آج صبح سعودی عرب کے جنگی طیارہ نے ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ آج صبح سعودی عرب نے یمن پر ہوائی حملہ کر دیا جس کی وجہ سے اس ملک کے تقریبا ۵۰ عام شہری جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبر ہے جس میں اکثر چھوٹے بچے ہیں ۔
يمن پر ہوائي حملہ


رسا نیوز ایجنیس کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق آج صبح سعودی عرب نے یمن پر ہوائی حملہ کر دیا جس کی وجہ سے اس ملک کے تقریبا 50 عام شہری جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبر ہے جس میں اکثر چھوٹے بچے ہیں ۔

صنعا کے شمال میں بنی حوات کے علاقے پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کے جمعرات کی صبح ہونے والے ہوائی حملے میں کئی یمنی باشندے جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔
اسی طرح عدن میں العند فضائی چھاؤنی پر سعودی عرب کے ہوائی حملے میں انصار اللہ تحریک کے کئی کمانڈر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا یمن کی فوج کی طیارہ شکن توپوں نے صنعا میں سعودی عرب کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔

یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے کہا ہے : یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تمام آپشن موجود ہیں۔

انصار اللہ کی انقلابی کمیٹیوں کے رکن توفیق الحمیری نے بھی سعودی عرب کے ہوائی حملوں کے جواب میں کہا ہے : آج سے گفتگو کی زبان، ہتھیار کی زبان ہے اور سعودی عرب کو یمن پر حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل بن احمد الجبیر نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے : یمن کے موجودہ حالات کسی بھی طرح سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا : سعودی عرب نے یمن میں فوجی مداخلت امریکا اور اپنے دیگر اتحادیوں سے صلاح ومشورے کے بعد کیا ہے-

امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ نئی جنگ میں تمام آپشن استعمال کیے جائیں گے کہا : یمن میں انقلابی گروہوں کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کے مقصد سے کی جانے والی فوجی کارروائی میں دس ممالک سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس سے قبل یمن میں عوامی قوتوں کی پے در پے کامیابیوں کے بعد مستعفی اور مفرور صدر منصور ہادی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور خلیج فارس تعاون کونسل کی فوج سے یمن میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ منصور ہادی عدن چھوڑ کر پہلے ہی ملک سے باہر فرار کرگئے ہیں - اس درمیان کچھ عرب ممالک نے بھی انصار اللہ تحریک کے خلاف بیان جاری کیا تھا۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بحرین اور قطر نے بدھ کے روز انصار اللہ یمن کے خلاف ایک بیان جاری کر کے اس کے اقدامات کو علاقے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ تاہم اس بیان میں عمان شریک نہیں تھا - ان عرب ممالک کا کہنا تھا کہ وہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی درخواست کے جواب میں انصار اللہ کا مقابلہ کریں گے۔

قابل بیان ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن نائف نے کہا ہے : امریکہ کو یمن کے خلاف فوجی کارروائی پر اعتماد میں لیا گیا ہے-
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬