‫‫کیٹیگری‬ :
23 February 2016 - 22:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9099
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری :
رسا نیوز ایجنسی ـ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے بیان کیا : ہماری دانستہ غٖفلت ہمیں اپنے آئندہ نسلوں کا مجرم بنا دے گی۔ مسلم حکمران دانشمندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے دوست نما دشمن کی پہچان پیدا کریں۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے ایک بیان میں کہا : عالمی امن شدید خطرات سے دوچار ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : امریکہ اور اس کے حواری اپنی طاقت کے بل بوتے پرامت مسلمہ کو تباہی سے دوچار کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں صرف مسلم ممالک ہی انتشار کا شکار ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے بیان کیا : امت مسلم کی تنزلی یہود ونصاریٰ کا اولین ایجنڈا ہے۔ ہماری دانستہ غٖفلت ہمیں اپنے آئندہ نسلوں کا مجرم بنا دے گی۔ مسلم حکمران دانشمندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے دوست نما دشمن کی پہچان پیدا کریں۔

انہوں نے روس اور چین سمیت دیگر غیر متنازعہ قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کریں۔ غیر یقینی کی موجودہ فضا کسی بھی ملک کے لیے سازگار نہیں۔

راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا : مسلم ممالک کے مابین تصادم کی چھوٹی سی راہ عالمی جنگ کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کافی ہے ۔ مغربی استعمار مسلم ممالک میں لگی ہوئی آگ کا تماش بین بننے کی بجائے اس بجھانے میں کردار ادا کرے۔

انہوں نے دمشق کے نواحی علاقے سیدہ زینبؑ اور حمص میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں سو سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا : شام میں رسول اللہ ﷺ کی نواسی کا روضہ مبارک ہے۔ یہ شیعہ سنی تمام مسلمانوں کے لئے متبرک ہیں ۔

حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا : داعش نامی ابلیسی قوتوں مسلمانوں اور ان کے مقدسات کی دشمن ہیں۔ان عناصر کی سرکوبی امت مسلمہ کے تمام مسالک کی شرعی ذمہ داری ہے۔مسلمان حکمران شام میں داعش کے خاتمے میں وہاں کی حکومت کے ساتھ عسکری تعاون کریں تاکہ ان مذموم عناصر کو شکست فاش ہو جو اسلام کے ررشن چہرے کو بدنما ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬