21 May 2020 - 09:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442785
فونت
دنیا کی آزاد ضمیرحکومتیں جن میں سر فہرست ایران ہے اور پوری دنیا کی بیدار عوام اسرائیل کے ناپاک وجود کو نہ صرف عالم اسلام کے لیے بلکہ عالم انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔

عالمی یوم قدس یا ظلم کے خلاف عالمی یوم احتجاج

حجت الاسلام سید حمیدالحسن زیدی، جامعۃ المصطفی الامامیہ وجامعہ ام الزہرا(س) سیتاپور

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اعراب کی سست ہوتی ہوئی سیاست اور عرب ممالک کے ذلت آمیز رویے نے اسرائیل کے حوصلے بلند کر رکھے تھے اور پوری اسلامی دنیا پر اپنی حکومت کے خواب دیکھنے لگے کہ امام خمینی(رح) کی رہبری میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے اس کےتمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ۔

 

 تاریخ انسانیت کے آغاز سے ظلم و تشدد نے اپنا سر اٹھانا شروع کردیا تھا اور قابیل کے ذریعہ اپنے سگے بھائی کا خون بہا کرظلم کی تاریخ رقم کی گئی تھی اس کا سلسلہ کچھ اس طرح چل نکلا ہے کہ ہر دور میں ظلم و ستم نے بے گناہ انسانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا فرعونیت اور نمرودیت سے لیکر آج تک کا عالمی استعمار اور اس کے آلہ کار کائنات کے کمزور اور پچھڑے ہوئے انسانوں کو ظلم و ستم کا شکار بنا رہے ہیں آج پوری دنیا کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے ۔

سعودی عرب ، سوریہ، فلسطین، یمن، بحرین سے لیکر متعدد افریقی ممالک میں بے گناہوں پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور عالمی برادری ہے کہ جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور پوری انسانیت کی طرف سے عام طور پر اور ملت اسلامیہ کی طرف سے خاص طور سے خاموشی نے دشمنوں کے حوصلے بڑھا رکھے ہیں اور حد یہ ہے کہ اب استعمار کے زر خرید غلام عرب ممالک کے سربراہ اپنی انسانی اور اسلامی ذمہ داری کو بھول کر استعمار کی غلامی میں آخری حد تک گر چکے ہیں اور اسلامی ممالک کے عظیم سرمائے کو عالمی استعمار اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل کی خوشنودی کے لئے نچھا ور کر رہے ہیں جس میں سر فہرست  اسلام کے مقدس  شہروں پرناجائزقابض سعودی عرب کے حکمراں ہیں جو ایک طرف حرمین شریفین کی خدمت کا دم بھرتے ہیں تو دوسری طرف غاصب اسرائیل کے تلوے چاٹنے میں اپنی بقاء محسوس کر تے ہیں

اس کے برخلاف عالم اسلام کی عالمانہ قیادت اور اسرائیل  کےناپاک اور غاصب وجود پر بوکھلا ہٹ طاری ہے

اعراب کی سست ہوتی ہوئی سیاست اور عرب ممالک کے ذلت آمیز رویے نے اسرائیل کے حوصلے بلند کر رکھے تھے اور پوری اسلامی دنیا پر اپنی حکومت کے خواب دیکھنے لگے کہ امام خمینی(رح) کی رہبری میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے اس کےتمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا امام خمینی(رح) نے اسرائیلی سفارتخانہ بند کرکے فلسطینی سفارتخانہ قائم کیا اور انقلاب کی کامیابی کے ایک سال کے اندر ہی ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم قدس اور غاصب اسرائیل کے خلاف احتجاج کا دن قرار دیا اس وقت سے لیکر آج تک ہر سال ماہ مبارک رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے احتجاج کیا جاتا جس نے غاصب اسرائیل کی نیند اڑا رکھی ہے۔

اس موقعہ پر پوری دنیاکی آزاد ضمیرحکومتیں جن میں سر فہرست ایران کی اسلامی حکومت ہے اور پوری دنیا کی بیدار عوام اسرائیل کے ناپاک وجود کو نہ صرف عالم اسلام کے لیے بلکہ عالم انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اورایران کے مرحوم روحانی پیشوا حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کےنظریہ کے مطابق اسے انسانیت کے لیے کینسر کا پھوڑا قرار دیتے ہیں جس سے حفاظت کا تنہا راستہ اسے کاٹ کر پھینک دینا ہوتاہے لہذا اسرائیل سے لا تعلقی اور اس کے خلاف احتجاج ہر زندہ دل کی آواز ہے ہمارا ہر سال کا یہ احتجاج غاصب اسرائیل کو یہ احساس دلانے کے لئے کافی ہے کہ اس کی حکومت غاصبانہ ہے اور یہ سر زمین اس کی اپنی نہیں ہے اس احتجاج کے نتیجہ میں اپنی ڈوبتی ناؤ دیکھ کر اسرائیل نےاپنے سب سے بڑی حامی امریکہ کے ذریعہ عربوں پر اپنا شکنجہ تیز کرتے ہوئے  اپنے جارحانہ اقدامات میں ان کی حمایت حاصل کرلی۔ اور علی الاعلان مسلمانوں کے قبلہ اول کو اسرائیلی دار الحکومت قرار دینے کا اعلان کیا ۔

جس میں پوری دنیا کے آزاد ضمیر ممالک نے امریکہ کی مخالفت کی لیکن ضمیر فروش سعودی حکمرانوں نے اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے اس کے اس شرمناک اقدام کے سامنے بھی کتوں کی طرح دم ہلاکر اپنی حمایت کا اعلان کر دیا ۔جس کے نتیجہ میں دنیا دیکھتی رہتی ہے کے اسرائیل کے مسلح افواج کس طرح نہتے بچوں اور عورتوں پر گولہ باری کرکے انکا خون بہا تےرہتے ہیں

ہم ماہ مبارک رمضان کےآخری جمعہ میں امریکہ ،اسرائیل اور تمام دنیا کے ظالموں سے اظہار براءت اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

اس سال عالمی وبا جو غالبا انسانیت کے خلاف انھیں انسان دشمن سر پھروں میں سے کسی کی سازش یا ان کے ذریعہ قدرت سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ سے جہاں ماہ مبارک کی بہت سی اجتماعی عبادتیں نہیں انجام پاسکیں شاید قدس کی آزادی کے مطالبہ کے لیے منایا جانے والا قدس ڈے بھی اس طرح نہ منایا جاسکے لیکن جس طرح باقی عبادتیں کسی نہ کسی صوت  انجام پائی ہیں ظالموں سے اظہار نفرت کا یہ دن بھی ظالموں اور غاصبوں سے قلبی 'قلمی اظہار نفرت کے ساتھ منایا جائے گا اور انفرادی مصلای عبادت سے سہی دشمن کے خلاف ایک ساتھ مظلوموں کی آہیں اوربددعائیں جب خدا کی بارگاہ میں پہونچیں گی توظالموں کی شام اور مظلوموں کی روشن صبح کا مژدہ ضرور ملے گا

خدا سلامت رکھے رہبر معظم آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای اور رہبر مقاومت اسلامی حضرت حجۃ الاسلام والمسلمین آقائے حسن نصر اللہ کو جن کی مدبرانہ سیاست ،فعالیت ، سوجھ بوجھ ،اور سر براہی میں ملت مسلمہ کا سراونچاہے اور ظلم و جور کےبانی ذلیل و رسوا ہیں ۔امیدہے کہ جلد ہی اسرائیل کی نابودی اور فلسطین کی آزادی کا مژدہ امام عصر (عج)کے ظہور کی خوش خبری کے ساتھ امت اسلامی کے لئے حقیقی عید کا پیغام لائے گا اور یہود کی طرح سعود بھی ذلت و رسوائی کےساتھ اپنا تباہ کن انجام دیکھیں گے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں