11 July 2013 - 14:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5633
فونت
اسلامی اخلاق اور رھبر معظم انقلاب(4):
رسا نیوز ایجنسی - رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت ‌الله العظمی خامنہ ای نے حضرت امام جعفرصادق علیہ‌ السلام سے منقول حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا: انسان کے نفس اور اچھے دوست کو شیطان کے پنجے سے آزادی کا وسیلہ جانا ۔
رھبر معظم انقلاب اسلامي
 
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت ‌الله العظمی خامنہ ای نے اپنے درس خارج کے ابتداء میں سیکڑوں افاضل و علمائے کرام کی موجودگی میں جو حسینہ امام خمینی تھران میں منعقد ہوا اخلاقی نکات کی جانب اشارہ کیا ۔
رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے حضرت امام جعفرصادق علیہ ‌السلام سے منقول روایت «قَالَ الصَّادِقُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ع مَنْ لَمْ یَکُنْ لَهُ وَاعِظٌ مِنْ قَلْبِهِ وَ زَاجِرٌ مِنْ نَفْسِهِ وَ لَمْ یَکُنْ لَهُ قَرِینٌ مُرْشِدٌ اسْتَمْکَنَ عَدُوَّهُ مِنْ عُنُقِه؛ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جس کا دل ناصح اور نفس ملامت کرنے والا نہ ہو اور جس کا کوئی ھادی نہ ہو تو دشمن (شیطان) اس پر مسلط ہوجائے گا » کتاب شافی، صفحہ 652 ۔ کی تشریح کی ۔
رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے کہا : سب سے پہلی چیز جس کے وسیلہ سے انسان اپنے دشمن کہ اس حدیث میں دشمن سے مراد شیطان ہے، کا مقابلہ کرسکتا ہے یعنی شیطان کو اپن اوپر مسط ہونے سے روک سکتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کوئی نصیحت کرنے والا ہو ۔  انسان کا بیدار دل، انسان کو نصحیت کرتا ہے موعظہ کرتا ہے اور جس کی بنیاد پر انسان اپنے دل کو نصیحت کرنے پو مجبور کرسکتا ہے وہ دعائیں  ہیں چاھے وہ  صحیفہ سجادیہ میں موجود دعائیں ہوں یا دیگر دعائیں دوسرے  شب زندہ داری ، یہ اعمال انسان کے دلوں کو خود انسان کے لئے ناصح بنا دیتے ہیں ۔
انہوں نے حدیث کے دیگر ٹکڑے «و زاجر من نفسه»«و لم یکن له قرین مرشد»« من یذکّرکم اللَّه رؤیته»«استمکن عدوّه من عنقه» کی تشریح میں فرمایا: دوسرے یہ کہ انسان کے اندر کوئی ملامت کرنے والا، منع کرنے والا اور خبردار کرنے والا ہو، اور اگر یہ دونوں نہ ہوں یعنی نصیحت کرنے والا اور ملامت کرنے والا تو پھر ایک نصیحت کرنے والا، مدد کرنے اور ھدایت کرنے دوست ہو کہ اگر انسان کا دل و دماغ اس کی ھدایت نہ کرسکا، اس کے نفس کو کنٹرول نہ کرسکا اس صورت میں ایک دوست ہو، ایک ساتھی ہو جو اسے یاد دہانی کراسکے  اور اس کی ملاقات تمھیں یاد خدا تازہ کرے اور تمھیں یاد خدا دلائے کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے خود کا دشمن کا مطیع بنا رکھا ہے ، خود کو دشمن کے قبضہ میں دے رکھا ہے ، خود کو دشمن کی سواری بنا رکھا ، کہ اس حدیث میں دشمن سے مراد شیطان ہے یعنی تمھارا وجود شیطان کی سواری ہے ۔
ضروری ہے کہ انسان دل اس کی نصحیت کرے ، انسان کا بہترین نصیحت کرنے والا اس کا دل ہے، کیوں کہ اگر انسان کا دل اس کی نصحیت کرے گا تو ھرگز خود سے گلہ مند نہیں ہوگا ۔ اگر کوئی دوسرا انسان کی نصیحت کرے اور اس کا لہجہ سخت ہو تو انسان گلہ مند ہوتا ہے، مگر جب انسان خود کی نصحیت کرتا ہے ، خود کو برا بھلا کہتا ہے ، خود کی ملامت کرتا ہے ، خود کی سرزنش کرتا ہے تو اس کے اثار زیادہ ہیں ۔
 
 
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬