02 June 2014 - 14:49
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6842
فونت
اندرا نگر سری نگر کشمیر ھندوستان میں؛
رسا نیوز ایجنسی - ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر کے حساس علاقے اندرا نگر میں شراب فروشی کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مظاہرے پر پولیس کی یلغار میں 2 درجن کے قریب شیعہ و سنی علمائے کرام گرفتار ہوگئے ۔
کشمير ھندوستان

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر کے انتہائی حساس علاقے اندرا نگر میں پولیس نے شراب فروشی کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مظاہرے پر یلغار کرتے ہوئے 2 درجن کے قریب علمائے کرام کو حراست میں لے لیا ۔ 


اس رپورٹ کے مطابق، علمائے احناف نے یکم جون کو وادی کشمیر میں شراب فروشی اور اس کے کسی بھی طرح کے استعمال کے خلاف احتجاج کے طور پر شراب مخالف دن منانے اور دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا ۔


گذشتہ روز 11 بجے کے قریب علمائے احناف کے جھنڈے تلے چلڈرن اسپتال کے نزدیک بیسیوں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے شراب فروشی کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ 


اس موقع پر علمائے کرام کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی دھرنے میں شرکت کی اور گاڑیوں کا چکہ جام کردیا ، احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر شراب مخالف نعرے درج تھے ۔


اس موقع پر احتجاجی مظاہرین نے اندرا نگر میں قائم شراب دکان کی طرف سے مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم اس سے قبل کہ وہ پیش قدمی کرتے پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی ، مظاہرین نے اگرچہ کچھ دیر تک نعرہ بازی کرتے ہوئے مزاحمت کی تاہم پولیس کے حصار کو وہ توڑنے میں وہ ناکام رہے۔


اس موقع پر پولیس نے انجمن علمائے احناف کے صدر مولانا اخضر حسین اور رابطہ ائمہ مساجد کے مولانا وارث کے علاوہ مولانا عاشق ، مولانا مقصود ، مولانا شبیر الحسن ، مولانا اقبال اور مولانا محمد یعقوب سمیت ایک درجن سے زائد علماء کوحراست میں لے لیا ۔


علمائے احناف کے صدر نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ جب تک سرزمین اولیاء سے اس خباثت کو ختم نہیں کیا جاتا یہ مہم جاری رہے گی کہا: انجمن علمائے احناف سر بہ کفن ہے اور کسی بھی حکمران کے سامنے اس حوالے سے سر جھکانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


انہوں نے محکمہ ایکسائز کو الٹی میٹم دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا : وہ فوری طور پر سونہ وار اور بلیوارڈ پر شراب کی دکانوں کو بند کریں ورنہ اس سلسلے میں ریاست گیر تحریک چلائی جائے گی ۔


مولانا اخضر حسین نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہ وہ شراب کے خلاف متحدہ ہو کر منظم مہم چلائیں تاکہ سرزمین کشمیر سے اس وباء کا خاتمہ ہو جائے کہا: راجستھان کے لوگوں نے متحدہ ہو کر شراب کے خلاف محاذ کھولا جبکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہمیں ان سے سبق حاصل کر کے شراب مخالف مہم کا آغاز کرنا چاہئے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬