11 October 2014 - 14:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7353
فونت
رسا نیوز ایجنسی - وہی داعش جو کبھی شام میں امریکا اور اس کے مقامی و غیرمقامی حواریوں کی منظور نظر تھی آج اس کے خلاف وہی تمام ممالک اور قوتیں اکٹھی ہو گئی ہیں جو کبھی داعش اور اس کی ہمجولیوں کی سرپرستی کے لیے اکٹھی تھیں ۔ القاعدہ کے نام پر گذشتہ برسوں میں جوکچھ ہوتا رہا ہے وہی القاعدہ کے نئے پرنٹ داعش کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔
ثاقب اکبر دھشت گرد گروہ داعش


ثاقب اکبر

 

کون نہیں جانتا کہ القاعدہ کی کوئی کارروائی کبھی مسلمانوں اور عالم اسلام کے مفاد میں تمام نہیں ہوئی۔ اس کے ہر قدم اور اقدام نے عالمی استعماری طاقتوںکو مسلمانوں کے خلاف ایک نئے اقدام کے لیے جواز فراہم کیا ہی۔ یہی صورت حال اب داعش کی بھی ہے ۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف اکٹھے ہونے والے ممالک کیا پہلے شامی حکومت کے خلاف نبردآزما گروہوں کی حمایت میں اکٹھے نہ تھی؟ سعودی عرب، قطر،اردن، بحرین،عمان، کویت،مصر، متحدہ عرب امارات اور ترکی وغیرہ پہلے بھی کھلم کھلا شام میں مصروفِ پیکار دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ عرب لیگ بھی قبل ازیں شام کے خلاف فوجی اقدام کی حمایت کر چکی ہی۔ شام میں نبردآزما گروہوں کو اسلحہ، پیسہ، تربیت اور دیگر سہولیات انہی ممالک نے فراہم کی ہیں جو آج شام کے اندر بظاہر داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں میں امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکا کے مغربی اتحادیوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔


یہ بات قابل ذکر ہے کہ داعش 2005میں معرض وجود میں آئی۔ اس کے اراکین کو مختلف عرب اور یورپی ممالک میں تربیت دی گئی ۔ گلوبل سیکورٹی ویب سائٹ نے یہ بات بہت پہلے شائع کردی تھی کہ فرانس کے شمال میں واقع Aisneعلاقے میں جیفری کورٹ کیمپ میں داعش کے اراکین کو تربیت دی گئی ہے ۔ یہ کیمپ 2007میں اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ 2007سے 2009 کے درمیان اس کیمپ میں ایسے افراد کو تربیت دی گئی جو شام میں داعش کے ساتھ تعاون کرنے میں شریک رہے ہیں۔ فرانس میں تربیت حاصل کرنے والے داعش ارکان میں سے ابواحمد علوانی کا نام بھی لیا جاتا ہے جو داعش کے کمانڈروں میں سے ہے ۔


کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب نے داعش سے تعاون سے ہاتھ کھینچا اور سعودی باشندوں کو اس سے الگ ہونے کا حکم جاری کیا۔ کہا جاتا ہے کہ داعش کے بعض شدت پسند نہ صرف سعودی عرب کی منشاء کے مطابق عمل کرنے کو تیار نہ تھے بلکہ وہ خود سعودی عرب کی حکومت کو بھی ہدف تنقید بناتے تھی۔ ممکن ہے یہ بات فقط بعض حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہی گئی ہو یا آئندہ کی منصوبہ سازی کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیی، وگرنہ داعش کے پاس پہنچنے والا اسلحہ وہی ہے جو لیبیا میں امریکی سفارتخانے سے ایک خاص حکمت عملی کے تحت شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے گروہوں کو مہیا کیا گیاتھا ۔


معروف ویب سائٹ (nfo Wars) اپنی رپورٹس میں دعوی کر چکی ہے کہ داعش کی پیدائش میں امریکا نے انتہائی واضح اور بنیادی کردار ادا کیا ہی۔ اس رپورٹ میں امریکی جنرل تھامس میک اینرنی کی جانب سے فاکس نیوز اور امریکی سینیٹر رنڈپاول کی جانب سے سی این این کو دیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیا گیا ہی۔ ان انٹرویوز میں بعض ایسے حقائق بیان کیے گئے تھے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ داعش کی پیدائش اور طاقت پکڑنے میں امریکا نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔


ماضی میں بھی امریکی حکمت عملیوں پر نظر رکھی جائے تو داعش کے بارے میں امریکا کا موجودہ طرز عمل سمجھنے میں مدد ملتی ہی۔ یہ حقیقت منظر عام پر آچکی ہے کہ کویت پر صدام حسین کو چڑھائی کی شہ دینے میں امریکا نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صدام حسین آخر وقت تک یہ سمجھتے رہے کہ امریکا ان کی حکومت کے خلاف ظاہری جمع تفریق کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کرے گا لیکن امریکا یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ عراق کی فوجی طاقت کو لگام دینا ضروری ہی۔ وہ بہت عرصہ پہلے عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بارے میں اپنا نظریہ پینٹا گون کے ایک رسالے میں شائع کر چکا تھا۔


اسے ایسے بہانوں کی ضرورت تھی جنھیں بنیاد بنا کر وہ عراق پر فوجی یلغار کر سکی۔ پہلی فوجی یلغار کو ناکافی سمجھتے ہوئے بعد ازاں نائن الیون کے بعد ایک ایسا بہانہ تراشا گیا جو بعد میں اگرچہ رسوا ہو گیا لیکن اتنے میں امریکا عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا چکا تھا۔ یہ بہانہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کا تھا۔


اسی طرح ایک عرصے سے امریکا کی یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ وہ شام میں ایک ایسی حکومت قائم کر سکے جو اسرائیل کے ارد گرد کی دیگر عرب ریاستوں کی طرح اسرائیل کے سامنے سر جھکا دے اور اسرائیل کو نہ فقط تسلیم کر لے بلکہ اس کی تقویت کا بھی ذریعہ بنی۔ اس کی مثال مصر اور اردن کی ہی۔ مصر میں فوج کے ذریعے اخوان المسلمین کی حکومت کے خاتمے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک روز اخوان المسلمین کی حکومت اپنے پیروکاروں کی منشاء کے مطابق اسرائیل کے مقابلے میں کھڑی ہو جائے۔


شام میں امریکا کو جمہوریت سے غرض ہوتی تو وہ سعودی عرب کی حمایت سے شام میں حکومت مخالف تشدد پسند گروہوں کی سرپرستی کیوں کرتا۔ علاقے کی بادشاہتوں کے ساتھ اس کے محبت بھرے تعلقات کیوں ہوتی۔ شام کی اس کی نظر میں ایک ہی خطا ہے اور وہ یہ کہ وہ اسرائیل کے سامنے سر جھکانے پر آمادہ نہیں ۔


امریکا ایک عرصے سے بہانے تلاش کررہا تھا کہ وہ شام کے اندر نو فلائی زون (o Fly Zone) قائم کر سکے جیسا کہ اس نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے لیے قائم کیا تھا۔ امریکا کی خواہش یہ تھی کہ شام کی فضائی طاقت پر ضرب کاری لگا سکے تاکہ شامی حکومت امریکی سرپرستی میں نبرد آزما شدت پسندوں کے خلاف اپنی فضائی طاقت استعمال نہ کر سکی۔ امریکا یہ بھی چاہتا تھا کہ وہ شام کے پیٹروکیمیکلز کے مراکز کو تباہ کر سکی۔ نیز وہ شام کے مواصلاتی نظام کو پوری طرح مفلوج کر سکے تاکہ بعدازاں وہ شام کی موجودہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر آمادہ کر لے یا پھر شام میں اپنی مرضی کی کوئی اور حکومت برسراقتدار لے آئی۔ امریکا نے شام میں تبدیلی کے لیے جن نئے طریقوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا تھا آج شام پر فضائی حملے کرتے ہوئے وہ یہ سب طریقے آزما رہا ہی۔  پیٹروکیمیکلز کے کارخانے تباہ کیے جارہے ہیں ۔ داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں شام کے فضائی اڈے تباہ کیے جا چکے ہیں اور شام کے ذرائع مواصلات کو مفلوج کرنے کے لیے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔


معروف میگزین گلوبل ریسرچ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا داعش کے بہانے شام کا انفراسٹرکچر تباہ کررہا ہی۔ گلوبل ریسرچ نے اپنی  رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ شام میں انجام پانے والی فوجی کارروائی لیبیا میں نیٹو کی کارروائی سے بہت ملتی جلتی ہے اور اسے ’’لیبیا 2‘‘ آپریشن قرار دیا جاسکتا ہے۔


دوسری طرف امریکی صدر باراک اوباما نے بھی کہا ہے کہ شام میں ’’نو فلائی زون‘‘ قائم کرنے کا بھی قوی امکان موجود ہی۔ اسی طرح امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اور امریکا کے چیف آف جوائنٹ آرمی سٹاف جنرل مارٹن ڈمپیسی نے بھی ملتے جلتے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ امریکا شام میں ’’نو فلائی زون‘‘ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نیٹو کی وہ دیرینہ آرزو پوری ہو جائے گی جو اس نے شام میں جاری بحران کے آغاز سے ہی کر رکھی ہی۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے کچھ ہی دن پہلے امریکی وزیر دفاع کے بقول لکھا تھا’’ہم نے تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور ترک حکام کی جانب سے ضروری قرار دیے گئے اقدامات کے بارے میں گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ اسی طرح جنرل ڈمپیسی نے کہا تھا ’’نو فلائی زون کا قیام اور ایک حفاظتی دیوار کی تعمیر جیسے اقدامات بھی ہماری نظر میں ہیں۔‘‘


جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو اس نے بھی امریکا کی قیادت میں شام پر فضائی حملوں میں شریک اتحادمیں شرکت کا اعلان کردیا ہی۔ ہمارے ہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ ترکی اس اتحاد میں کیوں شریک ہوا ہی۔ اس سوال کی ایک وجہ پاکستان کے ترکی کے ساتھ دیرینہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ بعض سادہ دل لوگ یہ توقع نہیں کرتے کہ ترکی جیسا ملک کسی مسلمان ملک کے خلاف امریکا کی حمایت کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے گا۔ سادہ دل ہم نے اس لیے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بعض حلقوںمیںاس حقیقت کو نظرانداز کردیا جاتا ہے کہ ترکی امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ناٹو کا رکن ہی۔ ترک فوجی امریکی اتحاد کا حصہ بن کر افغانستان میں بھی شریک عمل رہے ہیں۔ اسی طرح لیبیا کے خلاف ناٹو کی کارروائیوں میں بھی ترک حصہ دار تھی۔ ترکی کے اندر ناٹو کے اڈے قائم ہیں اور یہ اڈے خطے میں اس اتحاد کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ترکی کے آج بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی ، فوجی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ ترکی اور اسرائیل کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہی۔ آج بھی ترک صدر اردوان کے صاحبزادے کے تجارتی اداروں کے اسرائیل کے تجارتی اداروں سے بہت قریبی روابط قائم ہیں جنھیں ترکی کے اندر بھی بعض حلقے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ جب تک ترکی امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شریک ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس کے اس طرح کے قریبی تعلقات قائم ہیں ہم ترکی سے مذکورہ بالا اقدامات جیسے کسی بھی اقدام کی توقع کر سکتے ہیں۔


سعودی عرب کے بارے میں اب یہ بات کم ہی سوال انگیز رہی ہے کہ وہ کسی منصوبے میں امریکا کا اتحادی کیوں بنا ہی۔ اس لیے کہ سعودی بادشاہت کے قیام سے لے کر آج تک سعودی عرب ہمیشہ برطانوی اور امریکی سامراج کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتا رہا ہی۔ شام میں پہلے بھی جنگ آزما گروہوں کے ساتھ سعودی تعاون امریکی تائید اور حمایت کے ساتھ تھا اور آج داعش کے خلاف فضائی حملوں کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس میں بھی وہ امریکی حمایت میں پیش پیش ہی۔  افسوس تو یہ ہے کہ امریکی مفادات کے حصول کے لیے جانیں بھی مسلمانوں کی جارہی ہیں اور مال بھی مسلمانوں کاخرچ ہورہا ہے چنانچہ داعش مخالف اتحاد کے 60 فیصد اخراجات کی ذمہ داری سعودی حکومت قبول کر چکی ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬