رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت علماء کونسل عراق جس کی صدارت شیخ خالد عبدالوهاب الملا کے ذمہ ہے انہوں نے امریکی پارلیہ مینٹ میں اہل سنت اور کردوں کے لئے ایک الگ ملک بنانے کے لئے اور ان کو اسلحہ بھیجنے کے سلسلہ میں ایک مسودہ پیش کیا گیا ہے جس پر شدید تنقید کی ہے ۔
اس پیغام میں بیان ہوا ہے : عجیب نہیں ہے کہ امریکا دوسری مرتبہ اس ملک کے تجزیہ منصوبہ کو مختلف بہانہ کے ذریعہ کبھی دہشت گردوں و شدت پسندوں سے مقابلہ تو کبھی داعش کے ساتھ مختلف گروہ کی حمایت کو انجام دیتا رہا ہے اور اب تو امریکی پارلیہ مینٹ کی طرف سے عراق کے کئی مختلف کشور کے درمیان ہمکاری نہ ایک ملک بلے کئی ملکوں میں باٹنے کا منصوبہ پیش ہو گیا ۔
اس کونسل نے وضاحت کی : یہ سب سے خراب طریقہ ہے ایسے خود مختار و آزاد ملک کے ساتھ بات چیت کرنے کی، خود مختاری و آزادی جو قابل اہمیت ہے اس کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔
اہل سنت علماء کونسل عراق نے اس مسودہ کی شدید مذمت کی ہے اور بیان کیا : اس ملک میں ہر طرح کے اختلافات اور اس ملک کا تجزیہ کرنے کی ہر طرح کی سازش کی صریح مخالفت کا اعلان کرتے ہیں اور امریکا کے اس منصوبہ بندی کو عراق کے داخلی امور میں روشن مداخلت اور اس ملک اور علاقہ کی اولاد کی مستقبل میں مداخلت جانتا ہوں ۔
عراق کے اہل سنت عالم دین نے اس منصوبہ کے موافق و تبلیغ کرنے والوں کی شدید تنقید کی ہے اور بیان کیا ہے کہ یہ مسئلہ کسی بھی بنا پر قوم پرستی پہلو نہیں پائی جاتی ہے اور جو لوگ اس منصوبہ کا استقبال کرتے ہیں وہ اپنی حقیقت کی نمایش کر رہے ہیں ۔