‫‫کیٹیگری‬ :
14 May 2015 - 23:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8136
فونت
قائد انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی نے بیان کیا: شام کے خلاف بعض عرب ملکوں کی سازش بڑی خطرناک اور تباہ کن ہے اور ان کی سازش صرف شام کو نہیں بلکہ خود ان کو بھی تباہ کر دے گی۔
قائد انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کے صدر اور ان کے ہمراہ تہران آنے والے وفد سے ملاقات میں عراق کو عرب اور اسلامی ملکوں میں انتہائی اہم اور موثر ملک قرار دیا اور علاقائی ملکوں منجملہ یمن اور شام میں حد درجہ افسوسناک حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عراق اپنی خاص پوزیشن کی وجہ سے یقینا علاقے کے مسائل میں موثر رول ادا کر سکتا ہے، چنانچہ ان صلاحیتوں کو پہلے سے زیادہ بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے تعلقات کو بہت عمیق اور برادرانہ تعلقات سے تعبیر کیا اور روابط میں روز افزوں وسعت کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ گزشتہ برسوں کی نسبت اس وقت کے ایران عراق تعلقات بے مثال ہیں اور یہ عمل جو عراقی بھائیوں کی حکمت و دانشمندی کی علامت ہے، بدستور جاری رہنا چاہئے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کی ترقی اور استحکام کے لئے ہر طرح کی مدد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی آمادگی کا اظہار کیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات، عراق اور علاقے کے حالات کے بارے میں صدر فواد معصوم کے تبصرے کو جامع اور دقت نظر پر مبنی قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ عرب اور اسلامی ملکوں کے درمیان عراق چند انتہائی اہم ملکوں میں سے ایک ہے جو منفرد خصوصیات کا مالک ہے۔

قائد انقلاب اسلامی کے مطابق عراق میں مستحکم عوامی حکومت کی تشکیل، عرب ملکوں کے درمیان عراق کی کم نظیر خصوصیت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ عراق کے حکام اور جماعتوں کو چاہئے کہ اس اہم امتیاز کی بخوبی حفاظت کریں اور یہ موقع نہ دیں کہ بعض ممکنہ اختلافات عراقی عوام کی اس تاریخی کامیابی کو نقصان پہچائیں۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عرب دنیا میں عراقی حکومت کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آج علاقے اور دنیائے اسلام کو افسوسناک اور حقیقت میں المناک مسائل جیسے بحران فلسطین، شمالی افریقا کے مسائل اور شام و یمن میں جنگ کا سامنا ہے اور عراق یقینی طور پر ان مسائل میں موثر رول ادا کر سکتا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شام کے لئے دشمن کا منصوبہ بے حد خطرناک ہے۔ آپ نے زور دیکر کہا: "وہ شام میں بدامنی اور عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوشش میں ہیں، تاکہ اسی طریقے سے پورے علاقے کو بدامنی کی آگ میں جھونک دیں۔"

قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ شام کے خلاف بعض عرب ملکوں کی سازش بڑی خطرناک اور تباہ کن ہے اور ان کی سازش صرف شام کو نہیں بلکہ خود ان کو بھی تباہ کر دے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ شام میں امن و استحکام کی بحالی اور اس کی حفاظت بہت اہم ہدف ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے شام میں داعش کے دہشت گردانہ اقدامات اور ان سے عراق اور علاقے پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کے بارے میں عراقی صدر کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شام مین مختلف ناموں سے گوناگوں تکفیری دہشت گرد گروہوں کی موجودگی در حقیقت صیہونی حکومت اور ان لوگوں کے مفاد میں ہے جو اپنی مرضی مسلط کرنے کے مقصد سے پورے علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اپنی اس گفتگو میں یمن کے اندوہناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سعودی حکام نے یمن میں بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور جو جرائم انھوں نے کئے ہیں یقینی طور پر ان کے عواقب ان کے گریباں گیر ہوں گے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ یمن میں مظلوم عوام کا قتل عام فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ یمن کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی حکام کے بیچ ایک غیر دانشمندانہ اور جاہلانہ تفکر (کا حامل دھڑا) یمن کے بارے میں فیصلے کر رہا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی کے مطابق یمن کے خلاف جارحیت کے لئے سعودیوں کا استدلال بالکل احمقانہ ہے۔ آپ نے فرمایا: "انہوں نے یمن کے مستعفی و مفرور صدر کی درخواست کے نام پر، کہ جس نے انتہائی حساس حالات میں اپنے وطن سے خیانت کی ہے، یمن کے خلاف حملہ کر دیا!"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ان مسائل میں عراق کے موقف اور کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور عراق کے مستقبل کے تعلق سے نیک خواہشات اور امیدوں کا اظہار کیا اور عوام کو میدان میں لانے اور انہیں فوج کے شانہ بشانہ قرار دینے کے عراقی حکومت کے فیصلے کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا: "ہر عراقی نوجوان توانائی و استعداد کے اعتبار سے ایک چمپیئن ہے اور یہ نوجوان مناسب حالات میں مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم ایران میں اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔"

قائد انقلاب اسلامی نے عراقی صدر فواد معصوم سے سابق صدر جناب جلال طالبانی کی احوال پرسی کی اور ان کی صحت و شفایابی کی دعا کی۔

اس ملاقات میں عراق کے صدر فواد معصوم نے قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات پر اظہار مسرت کیا اور کہا کہ میرے خیال میں جناب عالی اسلامی انقلاب کے قائد اور ایک عظیم دینی رہنما ہونے کی حیثیت سے ایران اور عراق کے تعلقات کو مزید فروغ دینے، نیز عراق کے مسائل و مشکلات کے حل میں مدد کر سکتے ہیں۔

صدر فواد معصوم نے کہا کہ عراقی حکومت اور قوم داعش کے حملے کے موقع پر اور سخت ترین حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران سے ملنے والی مدد کو ہرگز فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں سرگرم داعش اور شام میں ریشہ دوانیوں میں مصروف داعش میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ داعش کا خطرہ پورے علاقے کے لئے ہے۔

اس ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے۔ عراقی صدر نے ڈاکٹر روحانی سے اپنی گفتگو کو بہت مثبت قرار دیا اور یہ امید ظاہر کی کہ جو مذاکرات ہوئے ہیں ان سے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے سازگار حالات پیدا ہوں گے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬