‫‫کیٹیگری‬ :
01 July 2015 - 10:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8265
فونت
قائد انقلاب اسلامی :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیتے ہوئے کہا : عدلیہ میں با کردار اور صاحب استعداد افراد موجود ہیں، بس بڑے کاموں کے لئے انھیں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔
قائد انقلاب اسلامي ايران کي عدليہ کے اھل کاروں سے ملاقات


رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اتوار کی شام عدلیہ کے سربراہ اور دیگر عہدیداران سے ملاقات میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والے دو عظیم شہیدوں آیت اللہ شہید بہشتی اور آیت اللہ شہید قدوسی کو خراج عقیدت پیش کیا اور عدلیہ کی خود مختاری کو انتہائی اہم مسئلہ قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ عدلیہ کی خود مختاری کو مخدوش کرنے والے علل و اسباب منجملہ دھمکی، لالچ، رواداری اور عمومی ماحول کے دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہئے اور عدلیہ کے درست طرز عمل اور روش کو بنیاد بنانا چاہئے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مقتدرانہ پوزیشن کو عدلیہ کی خود مختاری کے اہم عناصر میں شمار کیا اور فرمایا کہ عدلیہ کی مقتدرانہ حیثیت عام سیاسی و جماعتی اقتدار پسندی کی مانند نہیں ہے بلکہ اس کا ماحصل حق بات پر ثابت قدمی سے ڈٹ جانا اور قطعیت سے اپنا کام کرنا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ عدلیہ کی خود مختاری میں بہت اہم اور موثر رول ادا کرنے والے علل و اسباب میں محکمے کے اندر قانون کی بالادستی اور ممکل شفافیت و صحتمندی بھی ہے۔

آپ نے مزید فرمایا: "عدلیہ کو شفاف و صحتمند بنانے کے لئے بہت اچھے کام انجام دئے گئے ہیں، اس سلسلے کو پوری توجہ سے آگے بھی جاری رکھنا چاہئے، کیونکہ عدلیہ کے اندر کسی بھی طرح کی بدعنوانی، معاشرے کی سطح پر زیادہ بڑی بد عنوانیوں کا مقدمہ ثابت ہوگی۔"

قائد انقلاب اسلامی نے جرائم کی پیشگی روک تھام کو عدلیہ کا اہم اور حساس مشن قرار دیا اور فرمایا: "البتہ اس سلسلے میں دوسرے اداروں کو بھی متحرک رہنا چاہئے، مگر اس سلسلے میں منصوبہ بند اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ دوسری صورت میں جرائم میں مسلسل اضافہ ہوگا اور ان کا دائرہ بڑھے گا اور بڑے پیمانے پر انھیں کنٹرول کر پانا ممکن نہیں ہو گا۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قیدیوں کی تعداد میں اضافے کو افسوس ناک قرار دیا اور فرمایا: "یہ مشکل ایسی ہے جو مالیاتی، خاندانی، اخلاقیاتی اور سماجی کئی زاویوں سے دوسری مشکلات کا باعث بنتی ہے لہذا مختلف طرح کے راہ حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس مشکل کا مناسب علاج تلاش کیا جانا چاہئے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے معاشرے میں امن و مفاہمت کے ماحول کی ترویج، متعلقہ مشکلات کی نشاندہی اور 'کونسل برائے حل اختلاف' کی تقویت کو قیدیوں کی تعداد میں اضافے کو روکنے کے موثر طریقے قرار دیا اور فرمایا: "مالیاتی مسائل اور منشیات کی وجہ سے جیل جانے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافے کے مضر نتائج کی روک تھام کے لئے جدید راہ حل اور تجاویز کی تلاش میں رہنا چاہئے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے عدلیہ کے اندر منصوبے کے تحت کام کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "واضح اور طے شدہ منصوبوں پر عمل کرنے سے آئندہ کے روشن افق تک پہنچنے والے راستے پر صحیح پیش قدمی میں مدد ملے گی اور روز مرہ کی الجھنوں سے نجات ملے گی۔

قائد انقلاب اسلامی نے دوسرے نکتے کے طور پر قوانین کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ قانون ملک کی پیشرفت کا راستہ ہموار کرتا ہے، لہذا اگر بعض قوانین میں خامیاں یا تضاد کی کیفیت ہے تو ان کی اصلاح ہونی چاہئے، تاہم میں قانون سے چکمہ دینے کے اقدامات کو بالکل پسند نہیں کرتا۔

قائد انقلاب اسلامی نے عدلیہ میں بہترین عملہ تیار کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں با کردار اور صاحب استعداد افراد موجود ہیں، بس بڑے کاموں کے لئے انھیں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں ہفتہ عدلیہ کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور آیت اللہ بہشتی شہید اور آیت اللہ صدوقی شہید کو یاد کرتے ہوئے انقلابی تحریک کے دوران اور اس کے بعد ملک کا نظم و نسق چلانے کے مرحلے میں ان دونوں ہستیوں کے تعاون اور کردار کی قدردانی کی اور کہا کہ آیت اللہ بہشتی شہید نادر زمانہ اور بڑی پرکشش، انتظامی صلاحیتوں سے آراستہ، مدبر اور انقلابی شخصیت شمار کئے جاتے تھے اور ان کی زندگی واقعی انقلاب اور ملک کے لئے بڑی ثمر بخش تھی۔ جبکہ آپ کی شہادت بھی معاشرے میں اتحاد و یکجہتی کے مضبوط ہونے اور انقلاب کی تقویت کا باعث بنی۔

قائد انقلاب اسلامی نے انقلاب کے پہلے اٹارنی جنرل شہید قدوسی کو لطیف مزاج اور ساتھ ہی شجاع اور کسی چیز سے متاثر نہ ہونے والی شخصیت قرار دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے عدلیہ کے موجود سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی کے سرگرم کردار اور مجاہدانہ عزم و انتظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ملک کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور یہ اسلامی احکامات کے اہم حصے کے نفاذ کی ذمہ دار ہے، لہذا اس ادارے سے کسی بھی طرح کی سعی و کوشش اور مجاہدت و جفاکشی کی توقع رکھنا بالکل بجا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے اپنے ادارے کی کارکردگی کی تازہ رپورٹ پیش کی۔
آخر میں حاضرین نے امام خامنہ ای کی امامت میں نماز مغرب و عشا ادا کی۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬