‫‫کیٹیگری‬ :
13 October 2015 - 18:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8554
فونت
محرم کے موقع پر ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله وحید خراسانی نے اس بیان کے ساتھ کہ تبلیغ پوری طرح سے پہچانا جانا چاہیئے بیان کیا : مبلغین کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو عاشورہ کی عظمت سے آشنا کرائیں اور سید الشہدا علیہ السلام کو جیسا کہ رسول خدا کے کلام میں بیان کیا گیا ہے اس طرح معرفی کریں ۔
آيت الله وحيد خراساني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله حسین وحید خراسانی مرجع تقلید نے ممتاز مبلغین کی نشست میں اس بیان کے ساتھ کہ جو شخص جس کام میں مشغول ہے اس کو اس کی شناخت ہونی چاہیئے بیان کیا : شناخت کوئی آسان کام نہیں ہے ، امور کے ابتدا و انتہا کی پوری طرح معلومات ہونی چاہیئے ؛ مبلغین کو توجہ کرنی چاہیئے کہ جو چیز بھی ہے وہ قرآن مجید میں موجود ہے ۔

انہوں نے آیت «أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : یہ آیت معرفت کے راستہ کو بیان کرتا ہے ، درخت اس وقت پہچانا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد و جڑ اور ٹہنی و پھل قابل دید ہو فہم ہو ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ تبلیغ اور مبلغ کی تعریف بیان و مشخص ہو اور پوری طور سے پہچانا ہوا ہو اظہار کیا : قاعدہ و اصول یہ ہے کہ تبلیغ اور معرفت میں اصل و فرع اور پھل کے سلسلہ میں معلومات ہونا چاہیئے تا کہ مبلغین اپنے امور کو اچھی طرح پہچان سکیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : بعض قضایا قابل فہم و قابل بیان ہیں اور بعض قابل فہم تو تھے لیکن اس کے بیان سے قاصر ہیں اور اسی طرح بعض دوسرے فہم و بیان کے قابل نہیں ہیں ؛ وہ قضیہ کہ  مُدرِک جبرئیل امین اور جبرئیل امین کا بیان وحی الہی ہو تو فہم و درک سے قاصر بھی ہیں اور اس کو بیان کرنے سے عاجز بھی ہیں اور یہی قضیہ سہد الشہدا علیہ السلام کا بھی ہے ۔

مرجع تقلید نے بیان کیا ہے کہ ہم لوگ کسی بھی صورت میں اس مطالب کی عظمت کو نہیں سمجھ سکتے ہیں بیان کیا : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شب معراج اس حد تک اہم تھا کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں ایک سورہ اسرا کے نام سے نازل کیا ہے ؛ معراج کی شب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جملہ «ان الحسین مصباح الهدی و سفینة النجاة» کو عرش کے قوس پر مشاہدہ کیا تھا ۔

انہوں نے بیان کیا : اس جملہ کی بنیاد آیت نور میں پایا جاتا ہے کہ صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا (س) مشکات یعنی مخزن نور و چراغ ہیں ، حسن مجتبی ابن علی علیہ السلام چراغ اول  اور مظلوم کربلا امام حسین ابن علی علیہ السلام چراغ دوم ہیں ؛ صحیح السند روایت موجود ہے کہ جس میں فرمایا ہے کوئی مقرب ملک اور نبی مرسل نہیں ہیں جنہوں نے خداوند عالم سے امام حسین ابن علی علیہ السلام کی زیارت کے لئے درخواست کی ہو ۔

حضرت آیت الله وحید خراسانی نے اس بیان کے ساتھ کہ امام حسین علیہ السلام نے ایسا کام کیا ہے کہ خداوند عالم کے بارگاہ کی چابھی ان کی زبان ہے ، بیان کیا : مبلغین کو چاہیئے کہ عاشورہ اور سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام میں بیان ہوا ہے بیان کریں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬