25 October 2015 - 16:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8603
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے بیان کیا : مسجد الاقصٰی پر صیہونی فوجیوں اور صیہونی آبادکاروں کے حملے اور فلسطینی نمازیوں کے مسجد میں داخلے کی روک تھام سے پورے علاقے کی صورت حال سخت کشیدہ ہوگئی ہے۔
مسجد الاقص?ي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے فلسطینی عوام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے غیر انسانی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا : اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بیت المقدس اور مسجدالاقصٰی کی بے حرمتی کرنے سمیت 19روز سے جاری اسرائیلی حکومت کی جارحیت و بربریت کو روکنے کیلئے فی الفور اقدامات کریں۔

انہوں نے بیان کیا : بیت المقدس میں یہودی بستیوں کے دفاع کی آڑ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے نہتے عوام کے خلاف غیر انسانی اقدامات سمیت گذشتہ کئی ہفتوں سے مظلوم فلسطینیوں پر غاصب صیہونی فوجیوں اور صیہونی آباد کاروں کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ بند کرایا جائے ۔ جس میں اب تک کئی فلسطینی جوان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے بیان کیا : مسجد الاقصٰی پر صیہونی فوجیوں اور صیہونی آبادکاروں کے حملے اور فلسطینی نمازیوں کے مسجد میں داخلے کی روک تھام سے پورے علاقے کی صورت حال سخت کشیدہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے بیان کیا : سلامتی کونسل کے اجلاس میں فرانس کی جانب سے فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے مرکز اور مقدس مقام مسجد الاقصٰی میں عالمی مبصرین کی تعیناتی پر جمہوریت کے علمبرد ارمریکہ کی مخالفت کہ مسجد الاقصٰی میں عالمی مبصرین کی ضرورت نہیں ، عالم اسلام کے لئے کھلم کھلا چیلنج ہے ۔

حجت الاسلام ساجد علی نقوی نے غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان ظالمانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور جنیوا کے چوتھے کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے غاصب اسرائیل کو انسانی حقوق کے چارٹر اور اس سے متعلقہ دیگر قوانین نیز جنیوا کے چوتھے کنونشن پر عمل درآمد کے لئے مجبور کریں۔

واضح رہے کہ صیہونی فوجی اور صیہونی آبادکار، مسجد الاقصٰی پر حملہ کرکے زمان و مکان کی حیثیت سے اس مسجد کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬