31 March 2016 - 17:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9209
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : سیرت زہراؑ کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور ، نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہیں ۔
قائد ملت جعفريہ پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملک بھر میں یوم ام ابیھا مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا لوگوں نے ایک دوسرے کو اس مبارک عید پر مبارک باد پیش کی ۔

اس موقع پر حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے : جو لوگ اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں ان کی ہدایت اور رہنمائی کا منبع قرآن کریم اور سنت رسول اکرم ہے اور یہ مسلمانوں کا مسلمہ و متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآنی احکام کے مطابق پیغمبر گرامی کی ذات مبارک عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے جبکہ پیغمبر اکرم کی اپنی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خواتین عالم کے لئے بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہراؑ کی ذات ہے۔

انہوں نے کہا : سیدہؑ کے بارے میں فرامین پیغمبر ایسی حقیقت ہیں کہ جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ جناب سیدہؑ کا دختر رسول ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت اپنی جگہ ہے لیکن ان کا یہ پہلو سب سے منفرد اور نمایاں ہے کہ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے بیان کیا : اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عمل اور اخلاق کے میدان میں اپنی زندگی کے جو اصول اور نقوش چھوڑے ہیں وہ دائمی اور ابدی ہیں کسی زمانے ، معاشرے یا علاقے تک مخصوص اور مختص نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا : سیدہ فاطمہ زہراؑ کی زندگی کے اصولوں کو اجاگر کرنے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ان اصولوں پر عمل کر کے ہی مسلم خواتین فلاح حاصل کرسکتی ہیں جبکہ ان اصولوں کی آفاقیت اور افادیت اس قدر وسیع ہے کہ دنیائے بشریت کی تمام خواتین بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب و علاقہ ان اصولوں سے استفادہ کرکے کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں اور اخروی نجات کا سامان پیدا کرسکتی ہیں۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے کہا : آزادی نسواں کے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں البتہ سیرت زہرا کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے ۔ معاشروں کی تعمیر کرسکتی ہے نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے ۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اپنے ذاتی، اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬