25 February 2015 - 19:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7847
فونت
حجت الاسلام عارف حسین واحدی:
رسا نیوز ایجنسی – سرزمین پاکستان کے مشھور معروف شیعہ عالم دین نے یہ کہتے ہوئے کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی جھگڑا نہیں کہا : تکفیری گروہ ہی ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ اور دہشتگردی کی بنیاد ہیں ۔
حجت الاسلام عارف حسين واحدي

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے تکفیریوں کو ملکی سالمیت کے لئے خطرہ دھشت گردی کی بنیاد جانا ۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ پاکستان میں کوئی شیعہ سنی جھگڑا نہیں ملی یکجہتی کونسل کا موقف تکفیری گروہ اور ان کے سرغنہ کیلئے تازیانہ عبرت ہے کہا: حکومت فرقہ وارنہ نفرت پھیلانے کیخلاف فی الفور کارروائی عمل میں لائے ۔


شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری نے یہ کہتے ہوئے کہ کسی بھی مسلمہ اسلامی مکتب فکر کی تکفیر جائز نہیں ، ایک گروہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا موقف ملک بھر کے اکابر علما و مشائخ کے متفقہ موقف کی نفی ہے اور سراسر اُمت مسلمہ میں اختلافات ڈالنے کی سازش ہے کہا: اس سے مسلمان کمزور اور دشمن مضبوط ہوگا، عالم اسلام کے تمام ذمہ دار علماء مسلمہ سنی وشیعہ مکاتب فکر کو مسلمان قرار دے چکے ہیں ۔


انہوں ںے اپنے عقیدے کو دوسروں پر مسلط کرنا فرقہ وارانہ دہشتگردی بتاتے ہوئے کہا: پاکستان تاریخ کے کٹھن ترین دور سے گزر رہا ہے، دہشت گردی، انتہا پسندی اورفرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، مسجدوں اور امام بارگاہوں میں خود کش حملے ہورہے ہیں ۔


حجت الاسلام واحدی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پاکستان بنانے میں ہمارا خون اور سرمایہ شامل ہے، ملک کی بقا کے لئے قربانیاں بھی دے رہے ہیں کہا: ہماری دانشمندانہ قیادت نے ہمیشہ امن و امان اور ملکی استحکام کیلئے کوششیں کی ہیں ، لیکن اس کے برعکس نجی نیوز چینل کی جانب سے اپنے ریٹنگ کے چکر میں ملک کا امن داو پر لگاکر ایسا پروگرام نشرکیا گیا جس سے ملک میں فرقہ واریت پھیلی۔


انہوں نے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد تکفیر جانا اور کہا: تکفیریوں کے حرکات و سکنات کو سختی سے کنٹرول اور آپریشن ضرب عضب کو پورے ملک میں پھیلاکر ہی دہشتگردی پر کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے ۔                             
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬