04 August 2015 - 09:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8351
فونت
حجت الاسلام سید صدرالدین قبانچی کا؛
رسا نیوز ایجنسی – نجف اشرف کے امام جمعہ نے شیخ الازهر کے اس بیان پر کہ ائمہ اطهار(ع) فقط فکری امام کے حامل تھے ان کی سیاسی امامت، شیعوں کی اضافہ کردہ ہے جواب میں کہا کہ ای کاش اپ نے فکری امامت ہی سہی اھل بیت اطھار علیھم السلام سے لی ہوتی ۔
حجت الاسلام سيد صدرالدين قبانچي

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شھر نجف اشرف کے امام جمعہ نے حسینیہ فاطمیہ کبری میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام میں شھر رمادی میں داعش سے جنگ میں عراق کی عوام فورس کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا : داعش ضعف ، شکست اور عظیم شگاف سے روبرو ہے ۔
انہوں ںے مزید کہا: داعش سے جنگ میں ھرگز ھربیگانہ فوج پر بھروسہ نہ کریں کیوں کہ ہم ان دھشت گردوں کو عوامی فورس کے ذریعہ شکست دے سکتے ہیں ۔
حجت الاسلام قبانچی نے قانونی توانائیاں صوبوں کو دئے جانا ان کا قانونی حق جانا اور کہا: چیز صوبے کی ترقی اور بہتری میں مفید ہے ۔
شھر نجف اشرف کے امام جمعہ نے امکانات خصوصا لائٹ کی کمی کے سلسلہ میں ہونے والے مظاھروں اور ریلیوں سے سوء استفادہ کی بہ نسبت خبردار کیا اور کہا: بعض افراد اور پارٹیاں ان پرامن مظاھروں اور ریلیوں سے سوء استفادہ کرتے ہوئے عراق کے سیاسی نظام کو ضرر پہونچانے میں مصروف ہیں ۔
انہوں نے اهل بیت(ع) کی سیاسی امامت کے سلسلہ میں شیخ الازهر کی جانب سے شبھات پیدا کئے جانے کے پر سخت رد عمل کا اظھار کیا اور کہا: شیخ الازھر کا ادعای ہے کہ شیعہ فکری اور سیاسی امامت کے سلسلہ میں غلطی سے دوچار ہوئے ہیں اور اھل بیت علیھم السلام کی سیاسی امامت کو انہوں نے خود اضافہ کیا ہے ۔
حوزہ علمیہ نجف اشرف کے امام جمعہ نے مزید کہا: شیخ الازهر اهل بیت(ع) کی سیاسی امامت کے سلسلہ میں رسول اسلام(ص)  سے منقول احادیث کا مطالعہ کرے « یا علی انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی من بعدی » امام علی(ع) کی فکری اور سیاسی امامت کی بیان گر ہے کیوں کہ موسی کے لئے ھارون کی خلافت سیاسی اور فکری خلافت تھی ۔
اس عراقی عالم دین نے تاکید کی کہ حدیث غدیر بھی امام علی(ع) فکری اور سیاسی امامت کی بیانگر ہے وگرنہ کس بنیاد پر مسلمانوں کا جمع غفیر امام علی(ع) کی بیعت کے لئے یکجا ہوا ۔
انہوں نے آخر میں شیخ الازهر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ای کاش اپ نے فکری امامت ہی سہی اھل بیت اطھار علیھم السلام سے لی ہوتی ۔
 
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬