04 January 2015 - 22:01
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7649
فونت
جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ جے ایس او پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے صدر نے کہا : تمام مسلمان رسول گرامی قدر کی ذات اقدس کی ولادت کی خوشی میں سرشار ہیں اور اپنے اپنے طریقے سے جشن منا رہے ہیں۔
جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جے ایس او پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے صدر سید ارسلان نے اپنے ایک بیان میں کہا : آج  12 ربیع الاول سے ہفتہ وحدت کا آغاز ہو رہا ہے۔ تمام مسلمان رسول گرامی قدر کی ذات اقدس کی ولادت کی خوشی میں سرشار ہیں اور اپنے اپنے طریقے سے جشن منا رہے ہیں۔اس پر مسرت موقع پر تمام مسلمانوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے بیان کیا : حضرت محمد (ص) کی ذات اقدس تمام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور آپ (ص) کی ذات سے ہدایت لیتے ہوئے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے فروعی اختلافات کو بھول کر امت واحدہ ہونے کا ثبوت دیں اور یک جان ہو کر استعماری طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اسلام کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا : امام خمینیؒ نے 12ربیع الاول سے لے کر 17ربیع الاول تک ہفتہ وحدت کا اعلان کر کے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو فروغ دینے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ۔ رسول گرامی قدر کی ذات اس قدر بلند ہے کہ ان کی ولادت کی خوشی میں ایک یا دو دن نہیں بلکہ پورا ہفتہ خوشیاں  منانی چاہیے اور پورا ہفتہ سیمینارز کا انعقاد کرنا چاہیے۔

سید ارسلان نے وضاحت کی : طلباء کسی بھی قوم کے لیے امید کی کرن ہوتے ہیں اور قوموں کا عروج و زوال انہی طلباء کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اب تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ رسول اکرم (ص) کی سیرت گرامی تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے قیدیوں کو اس شرط پر چھوڑنے کا اعلان کیا کہ اگر وہ دو افراد کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو انہیں آزادی مل جائے گی۔

ان دہشت گردوں نے تعلیمی ادارے پر حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اسلام اور رسول (ص) سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور ایجنڈا کے تکمیل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سیکیورٹی ادارے اس امر کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں اور اس کی تکمیل پر  جنگی بنیادوں پر کام کریں۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬