20 January 2015 - 22:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7707
فونت
حجت الاسلام عارف حسین واحدی :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے علمائے کرام کے مختلف وفو د سے ملاقاتوں کے دوران فرانسیسی جریدے میں شائع ہونیوالے گستاخانہ خاکوں پر جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کیا ۔
حجت الاسلام عارف حسين واحدي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے علمائے کرام کے مختلف وفو د سے ملاقاتوں کے دوران فرانسیسی جریدے میں شائع ہونیوالے گستاخانہ خاکوں پر جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا : رسالت مآب (ص) کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے ۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : مسلم حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا، فرانسیسی جریدے نے اہانت کرکے اپنی جہالت کا ثبوت دیا ہے، او آئی سی اور اقوام متحدہ بھی اپنا کردار ادا کرے، حالیہ پٹرولیم بحران بھی تشویشناک، حکومت پٹرولیم بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دے ۔

ملاقاتوں میں فرانسیسی جریدے میں ہونیوالی گستاخی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اس موقع پر عارف حسین واحدی نے کہا : فرانسیسی جریدے کی اس گستاخی سے صرف مسلمانوں کی نہیں ہر اس شخص کی دل آ زاری ہوئی ہے جو انسانیت سے محبت کرتا ہے کیوں حضور اکرم (ص)  کا اسوئہ حسنہ تمام انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے اور اسلام نے احترام انسانیت و امن و آشتی کا درس دیا ہے ۔

قائد ملت جعفریہ کے سیکرٹری جنرل نے وضاحت کی : فرانسیسی جریدے کی اہانت آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ انتہاء پسندی اور جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
انہوں نے کہا : اب مسلم حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا اور او آئی سی کو بھی جاگنا ہوگا کہ جس مقصد کیلئے اس کا احیاء کیا گیا تھا وہ اس پر عملدرآمد کرے ۔

عارف حسین واحدی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے جبکہ یو این او سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انبیائے کرام کے تقدس کیلئے قانون سازی کری۔

انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس کی جانب سے مذکورہ معاملے پر متفقہ قرارداد کو خوش آئند قراردیتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو عالمی فورمز پر بھی اٹھایا جائے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬