30 July 2015 - 15:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8333
فونت
سنی اتحاد کونسل پاکستان:
رسا نیوز ایجنسی - سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے فرقہ واریت کو اسلام کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے کہا: مسلم ممالک مشترکہ کرنسی اور نیٹو طرز پر عالم اسلام کی مشترکہ دفاعی فورس قائم کریں ۔
صاحبزادہ حامد رضا

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے لبنان میں عالمی تحریکوں کے رہنماؤں سے گفتگو میں کہا: خارجیت اور تکفیریت نے اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ دہشتگردی کو اسلام سے منسوب کرنا بہت بڑا ظلم ہے کہا: اسلام امن و محبت کا دین ہے، نام نہاد جہادیوں کی بندوقوں کا رخ مسلمانوں کی طرف ہے۔ مشرقی وسطٰی میں فرقہ واریت کی بھڑکتی آگ کو بجھانے کیلئے مشرکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔


صاحبزادہ محمد حامد رضا نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عالم اسلام ، جعلی جہاد کی زد میں ہے، انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھانا علماء کی ذمہ داری ہے کہا: اسلام دشمن طاقتوں نے فرقہ واریت کو اسلام کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے۔


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مشرقی وسطٰی میں فرقہ واریت کی بھڑکتی آگ کو بجھانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے کہا : مسلم ممالک مشترکہ کرنسی کا اجراء کریں اور نیٹو طرز پر عالم اسلام کی مشترکہ دفاعی فورس قائم کریں۔


سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چئرمین نے انتہا پسندی کو مسلم معاشروں کیلئے زہر قاتل بتاتے ہوئے کہا: داعش اور القاعدہ جیسی تنظیمیں اسلام کو بدنام کرنے کیلئے بنائی گئیں۔ نام نہاد جہادی فلسطین کی آزادی کیلئے کیوں نہیں لڑتے۔ قبلہ اول پر یہودیوں کا قبضہ امت مسلم کی غیرت کیلئے عظیم چیلنج ہے۔ مسلم حکمرانوں نے امریکی ایجنٹی ترک نہ کی تو انہیں عوامی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔


انہوں نے مسلم حکمران کو امت مسلمہ کی امنگوں کی ترجمانی میں ناکام بتاتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کو دلیر قیادت کی ضرورت ہے بیان کیا: سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب سے برتری کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے مسلمانوں کو علم اور عمل کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬