08 March 2015 - 20:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7883
فونت
عبد اللہ رضا :
رسا نیوز ایجنسی ـ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی کے موقع پر جے ایس او پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے صدر نے بیان کیا : شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ساری زندگی قیادت سے مخلص رہے اور اسی اخلاص کے ساتھ ہی وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
عبداللہ رضا


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی کے موقع پر جے ایس او پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے صدر عبد اللہ رضا نے نوجوانوں کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا : شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ساری زندگی قیادت سے مخلص رہے اور اسی اخلاص کے ساتھ ہی وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

انہوں نے وضاحت کی : اگرچہ بہت سے طریقے آزمائے گئے کہ کسی طرح سے شہید کو ملت کے راستے سے ہٹایا جائے اور شہید کے اندر اس ملی جذبے کو ختم کیا جائے مگر شہید نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کہ میں تو تنظیم سے شادی کر چکا ہوں اب موت ہی مجھے تنظیم سے جدا کر سکتی ہے۔

عبداللہ رضا نے بیان کیا : شہید نے ہمیں سکھایا کہ ہمیشہ قیادت سے مخلص رہ کر ہی تم اپنی قوم و ملت کے لیے کچھ کر سکتے ہو۔ اگرچہ کچھ لوگ ہوں گے جو آپ کو قیادت کے راستے سے جدا کرنے کی کوشش کریں گے اور قومی اور ملی پلیٹ فارم سے ہٹانے کی کوشش کریں گے لیکن سعادت مند وہ ہی ہو گا جو اسی راستے پر گامزن رہے اور شہادت تو قبول کر لے لیکن ملی و قومی پلیٹ فارم سے جدا ہونا گوارا نہ کرے۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : ہمیں فخر ہے کہ ہم آج بھی شہید کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں اور آج بھی قومی و ملی پلیٹ فارم سے متمسک ہیں۔ اگرچہ آج بھی بہت سے لوگ ہیں جو شہید کا کرتہ اٹھا کر شہید کے وارث ہونے کا اعلان کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ شاید شہید کے فرامین کو بھول چکے ہیں ، شہید محمد علی نقوی کی سیرت عملی ہمارے لیے آج بھی نمونہ ہے۔

عبداللہ رضا نے بیان کیا : شہید محمدعلی نقوی نے جس راستے پر چلتے ہوئے شہادت کی سعادت حاصل کی ہمیں اسی راستے پر گامزن رہنا ہے کیونکہ یہی راستہ سعادت کا راستہ ہے اور یہی راستہ فلاح کا راستہ ہے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے ہم بروز محشر اپنے اماموں کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو حوض کوثر میں ہمیں امام حسینؑ کا ساتھ نصیب کرے گا۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬