30 March 2015 - 17:57
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7975
فونت
مجلس وحدت مسلمین اور جمعیت علمائے پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما اور جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو یمن کی صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ۔
مجلس وحدت مسلمين اور جمعيت علمائے پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری اور جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل پیر محفوظ مشہدی نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو یمن کی صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے، پاکستانی فوج کو کسی صورت یمن کے خلاف ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں حجت الاسلام ناصر عباس جعفری نے بیان کیا : حجاز مقدس کے دفاع اور آل سعود خاندان کی بادشاہت کے دفاع کو الگ الگ دیکھنا چاہیے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کا محور و مرکز ہے، جس پر آل سعود نے آج سے سو سال قبل برطانیہ کی مدد سے قبضہ کیا تھا اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازش کی تھی، آج آل سعود کی اسرائیل و امریکہ نواز بادشاہت کو بچانے کے لئے امت مسلمہ کو لقمہ اجل بننے نہیں دینگے۔

انہوں نے وضاحت کی : دہشت گردوں کے سرپرست آج آل سعود کے دفاع میں امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں، قومی سلامتی کے ادارے دشمن کی سازشوں کا ادراک کریں اور اس پراکسی وار میں ملک کو دھکیلنے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں، ہم ابھی تک جہاد افغان کی قیمت چکا رہے ہیں، پاکستان کسی اور پراکسی وار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

حجت الاسلام ناصر عباس جعفری نے تاکید کی ہے : عرب کی سر زمین پر سب سے مظلوم قوم فلسطینی مسلمان ہے، جن کی صہیونیوں کے ہاتھوں نسل کشی جاری ہے، آج تک آل سعود نے ان مظلوموں کی کوئی مدد نہیں کی حتیٰ اخلاقی تعاون تو درکنار ایک بیان تک نہ دیا۔

انہوں نے بیان کیا : یمن کی عوامی انقلابی تحریک سے آل سعود کی بادشاہت اور عرب ڈکٹیٹروں کو خطرہ ہے، پانچ روز سے آسمان سے یمنیوں پر آگ برسائی جارہی ہے جبکہ ان کی طرف سے ایک بھی حملہ نہیں کیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن پر یطرفہ جنگ کی جارہی ہے۔

مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا : یمن کے مسلمانوں نے سعودی عرب پر حملہ نہیں کیا بلکہ آل سعود نے یمن کے مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا ہے، نواز شریف نے ذاتی تعلقات پر ملکی سلامتی کو داوُ پر لگانے کی ٹھان لی ہے جسے کوئی بھی پاکستانی قبول کرنے کو تیار نہیں ۔

انہوں نے کہا : پاکستان مسلم امہ میں واحد ایٹمی طاقت ملک ہے، ہمیں امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے رول ادا کرنا چاہئے، آل سعود کے نمک خوار اور دہشت گردوں کے سہولت کار آج پھر سے مسلمانوں میں نفرتیں پھیلانے کے لئے یکسو ہو چکے ہیں، ہمیں دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔

اس ملاقات میں جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل پیر محفوظ مشہدی نے کہا : پاکستان کو یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار کرنا چاہیئے اور کسی بھی صورت پاکستانی فوج کو اس آگ میں نہیں جھونکنا چاہئیے، ہمیں پاکستان میں فرقہ واریت اور پراکسی وار کے خلاف متحد ہوکر کام کرنا چاہیئے، پاکستان کو شیعہ سنی نے مل کر بنایا تھا اس کی سلامتی اور دفاع بھی مل کر کرینگے۔

رہنماوں نے اتفاق کیا : پاکستان میں امن قائم کرنا پہلی ترجیح ہونی چاہئے جو شیعہ سنی کے درمیان مضبوط اتحاد کے ذریعے ممکن ہے، سیاسی طور پر ہمیں طاقتور بننے کی ضرورت ہے تاکہ تکفیریت کا راستہ روکا جاسکے، دونوں طرف سے کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا گیا اور طے ہوا کہ اگلی نشست میں یہ کمیٹیاں بیٹھ کر اس مشترکہ سیاسی جدوجہد کیلئے حکمت عملی اور اصول وضح کریں گی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ یمن میں سعودی جارحیت کیخلاف مشترکہ موقف اختیار کیا جائے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬