27 July 2015 - 13:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8325
فونت
حجت الاسلام امین شہیدی :
رسا نیوز ایجنسی ـ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری نے کہا : سیلاب زدگان کے ساتھ جا کر محض فوٹو سیشن سے ان کے دکھوں کا مداوہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان ناگہانی آفات کی روک تھام کے لیے مستقل منصوبہ بندی بے حد ضروری ہے۔
حجت الاسلام امين شہيدي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری حجت الاسلام امین شہیدی نے کہا : حکومت چترال، پنجاب اور سندھ میں زیر آب آنے والے علاقوں میں امدادی کاروئیوں کی رفتار کو تیز کرے۔

انہوں نے اپنے اس بیان میں تاکید کرتے ہوئے کہا : اس ناگہانی آفت کے نتیجے میں متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو ضروریات زندگی کی بلاتعطل فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری نے وضاحت کی : ریاست کے تمام اداروں سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور درد دل رکھنے والی مخیر شخصیات کو بھی مشکل کی اس گھڑی میں بے گھر افراد کی مدد اور بحالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا : ترقی یافتہ ممالک میں ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ نقصانات کی شرح کم سے کم درجہ پر رہے لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری نے بیان کیا : ہر سال ہزاروں ایکڑ رقبہ سیلاب کی نذر ہو جاتا ہے۔ لاکھوں افراد سیلاب کی تباہ کاریوں سے غربت کے گراف سے بھی نچلی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی : متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض اور غذائی قلت جیسی آفات نے ہر دوسرے گھر میں ڈیرہ ڈال رکھا ہوتا ہے۔ سینکڑوں قیمتی جانیں حکومتی عدم توجہی کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

پاکستان کے روحانی رہنما نے تاکید کرتے ہوئے کہا : حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان آفات سے نمٹنے کے لیے جامع لائحہ عمل طے کرے۔ جن علاقوں میں سیلاب کا اندیشہ ہو وہاں قبل از وقت حفاظتی تدابیر اور پانی کے بہاو کی رفتار کو معمول پر لانے کے لیے ضروری تعمیرات کی جائیں۔

حجت الاسلام امین شہیدی نے کہا : سیلاب زدگان کے ساتھ جا کر محض فوٹو سیشن سے ان کے دکھوں کا مداوہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان ناگہانی آفات کی روک تھام کے لیے مستقل منصوبہ بندی بے حد ضروری ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬