01 March 2015 - 15:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7862
فونت
داعش کی طرف سے موصل کی تاریخی میوزیم کی تباہی کے بعد :
رسا نیوز ایجنسی ـ اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ نے عراق کے پارلیہ مینٹ کے وہ ممبر جو داعش کے جرائم کو جائز جانتے ہیں وہ عراقی عوام سے معافی مانگیں اور پارلیہ مینٹ کی عضویت سے استعفی دیں ۔
شيخ خالد عبدالوهاب الملا


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ شیخ خالد عبدالوهاب الملا نے اپنے ایک پیغام میں داعش کی طرف سے عراق کے موصل میں موجودہ تاریخی میوزیم کو تباہ کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس صوبہ کے گورنر کی طرف سے اس سلسلہ میں رد عمل کو عراقی قوم کی توہین جانا ہے ۔

اس پیغام میں بیان ہوا ہے : موصل میوزیم کی تاریخی یادگاری کی تباہی کی کلیپ شایع کے بعد جس میں بعض قیمتی و نایاب اشیاء کی چوری اور ان میں سے بعض اہم آثار میں موجود سونا یا قیمتی اشیاء کو حاصل کرنے کی غرض سے سوراخ کرنا و خراب کرنا دہشت گرد داعش گروہ کی وحشی گری بیان کر رہی ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : داعش نے صرف لوگوں کو قتل کرنے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ نایاب و قیمتی پتھروں کو تباہ کیا ہے اور تاریخی نشانیوں اور کتابوں کو نابود کیا ہے ۔ وہ قدیمی و تاریخی نشانیاں تباہ کی گئی ہیں جو دو انسانی تمدن کی نشانی بیان کرتی تھیں ۔

شیخ خالد الملا اس اشارہ کے ساتھ کہ داعش کے یہ اقدام عراقی قوم کے تمدن کے ساتھ معنوی و مادی اقدار پر حملہ ہے وضاحت کی : یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے کہ ثقافتی کونسل کے سربراہ اور پارلیہ مینٹ کی میڈیہ نے کچھ روز پہلے داعش گروہ کا دفاع کیا تھا اور دعوا کیا تھا کہ یہ گروہ قتل و چوری اور تباہی کو انجام نہیں دیتا ہے ۔

اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : پارلیہ مینٹ کی یہ خاتون ممبر کے لئے لازم ہے کہ وہ عراق کی قوم سے معافی مانگے اور پارلیہ مینٹ ممبر اپنی عضویت سے استعفی دیں ۔

انہوں نے موصل کے گورنر کی طرف سے اس جرائم کو جائز قرار دینے پر شدید تنقید کی ہے اور بیان کیا : موصل کے گورنر نے داعش کے اس اقدام پر بغیر فاصلہ کے کہا کہ ان میں سے بعض آثار اصلی نہیں ہیں ۔ گورنر کی یہ بات عراقی قوم و تمدن و تاریخ کی نئی توہین ہے ۔ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬