15 December 2015 - 18:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8813
فونت
حجت الاسلام سید کلب جواد :
رسا نیوز ایجنسی ـ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی گذشتہ ۳۵ برسوں سے نیجیریہ میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں ، اس درمیان انہوں نے لاکھوں لوگوں کو حقیقی اسلام سے آشنا کرایا ہے ۔
حجت الاسلام سيد کلب جواد نقوي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس علماء و خطباء ہندوستان کے جنرل سیکریٹری حجت الاسلام سید کلب جواد نقوی نے نیجریہ کے شیعہ رہنما آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی پر نیجیریہ فوج کی طرف سے حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی گذشتہ 35 برسوں سے نیجیریہ میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں ، اس درمیان انہوں نے لاکھوں لوگوں کو حقیقی اسلام سے آشنا کرایا ہے ۔

لکھنو کے امام جمعہ نے کہا : آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے نیجیرین حکومت کی کرپشن اور بوکو حرام دہشت گرد گروہ کے ساتھ حکومت کے تعلقات و حمایت کے سلسلہ میں مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مختلف مواقع پر ان کے چاہنے والوں پر حکومت اور بوکو حرام دہشت گرد گروہ کی طرف سے حملہ ہوتا رہا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : دو دن پہلے جس طرح رات کے اندھیرے میں نیجیریہ کی فوج نے یک جھوٹے الزام کے تحت آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کے گھر اور حسینیہ بقیۃ اللہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور پوری رات ظالمانہ طریقے سے گولیوں کی بارش کی گئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آیت اللہ زکزاکی اور ان کی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

کلب جواد نقوی نے کہا : نیجیریہ کی فوج کی طرف سے اس حملہ میں سو سے بھی زیادہ بے گناہ مسلمانوں کی جان گئی ہے اور موصولہ رپورٹ کے مطابق اس میں ان کی اہلیہ اور آخری ایک بیٹا بھی شہید ہو گیا ہے ، اس سے پہلے بھی یوم قدس کی مناسبت سے منعقدہ آفریقا کی سب سے بڑی ریلی جس میں بہت سارے مسلمان جو اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت میں آواز بلند کر رہے تھے پر بھی حملہ کیا گیا تھا اور کثیر تعداد میں اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں کو شہید ہونا پڑا جس میں آیت اللہ زکزاکی کے تین فرزند بھی شہید ہوئے تھے ۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : آیت اللہ زکزاکی پر حملہ اسرائیل کے اشارہ پر ہی ہو رہا ہے ورنہ قدس کے ریلی سے نیجیریہ کی حکومت کو کیا نقصان ہو سکتا تھا ، ابھی تک جتنے بھی حملہ ہوئے ہیں ان میں نشانہ آیت اللہ زکزاکی کو بنایا گیا ہے لیکن بہت سے مسلمان اپنی جان کی بازی لگا کر اپنے قائد کی جان کی حفاظت کرتے ہیں اس بار بھی مسلمانوں نے آیت اللہ زکزاکی کے گھر کے چاروں طرف گھیرا بنا دیا تھا تاکہ ان کی جان کو خطرہ نہ ہو اسی میں بہت سے لوگ شہید ہوئے ۔

مجلس علماء و خطباء ہندوستان کے جنرل سیکریٹری نے بیان کیا : آیت اللہ زکزاکی کے ذریعہ پورے افریقا میں حقیقی اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے جو کہ حقیقی اسلام کے دشمنوں کو تحمل نہیں ہو رہا ہے اور اسی بنا پر بار بار ان پر حملہ کیا جا رہا ہے اور اس مرتبہ حملہ میں ان کو شدید زخمی کر دیا گیا اور گرفتار کر لیا گیا اور ان کے حسینیہ اور گھر کو بولڈوزر سے تباہ کر دیا گیا ۔

حجت الاسلام سید کلب جواد نقوی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : نیجیریہ حکومت کی طرف سے اس ظالمانہ حملہ کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور ہندوستان کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ نیجیریہ سفیر پر دباو ڈالا جائے کہ آیت اللہ زکزاکی کے ساتھ ہو رہے مظالم بند کرے اور ان کو جلد از جلد رہا کرے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬