20 February 2015 - 14:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7828
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے ملک بھر میں دہشت گردی کے پہ در پہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بیان کیا : کی چٹی ہٹیاں شکار پور اور پشاور کے سانحات نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہیں؟ ۔
قائد ملت جعفريہ پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے ملک بھر میں دہشت گردی کے پہ در پہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بیان کیا : کی چٹی ہٹیاں  شکار پور اور پشاور کے سانحات نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہیں؟ ۔

انہوں نے دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے آغاز سے ہی ملت تشیع کے خلاف پہ در پہ ہونے والے دہشتگرد ی کے واقعات کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا : حالیہ سانحات سمیت تمام دہشتگردی کے واقعات اور اس کے پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لاکر زبانی جمع خرچ کے بجائے حکومت دہشتگردوں کو کیفرو کردار تک پہنچایا جائے۔

سانحہ مسجد امامیہ حیات آباد پشاور کے حوالہ سے اپنے ایک روزہ دورہ پشاور  کے مو قع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے صحافیوں اور شہداء کے خانوادوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا : حکومت کی جانب سے دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے تیار کردہ نیشنل ایکشن پلان کے  بعد مسلمانوں کے ایک اہم مکتبہ فکر اہل تشیع کے خلاف دہشتگردی کے پے در پے واقعات لمحہ فکریہ اور نیشنل ایکشن پلان پر کڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے بیان کیا : حکومت کا ان واوقعات کے اصل محرکات اور پس پردہ عناصر کے بارے میں معلومات کو تا حال منظر عام پر لا کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا بھی دہشتگردی کیخلاف حکومتی پالیسیوں کی غیر سنجیدگی کی عکاس ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : پہلے حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ ملک میں دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے 33 حکومتی ایجنسیاں فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں۔ جبکہ وزیر داخلہ کے حالیہ بیان میں ان کی تعداد 26 بتائی گئی ہیں۔

ساجد علی نقوی نے وزیر داخلہ کی طرف سے دئے گئے بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے بیان کیا : یہ ایجنسیاں کہاں ہیں ؟َ اور کیا کام کررہی ہیں؟ دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں ان کی تربیت ساز فیکٹریاں کہاں ہیں؟ اور ان کے معاون کار یا سہولت کار کون ہیں؟ اس بارے میں حکومت کی زبان کیوں گونگ ہے؟ اور ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کیوں نا کام ہیں؟۔

انہوں نے کہا : مساجد و دیگر مذہبی عبادتگاہوں میں دھماکوں نے دہشتگردوں کے عزائم بے نقاب کر دیئے ہیں۔ حکومتی نیشنل ایکشن پلان کی پوزیشن واضح کرنے اور دہشتگردوں کیخلاف آہنی اقدمات اٹھا کر ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے اس سے پہلے سانحہ مسجد حیات آباد کا دورہ کیا اور شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیلئے ان کی رہائش گاہوں پر گئے۔ اور سی ایم ایچ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی اخونزادہ ،ضلعی صدر مجاہد علی اکبر اور دیگر علماء بھی موجود تھی۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬