06 March 2016 - 20:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9142
فونت
حجت الاسلام عارف حسین واحدی :
رسا نیوز ایجنسی ـ شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا : ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی سماجی و مذہبی شخصیت جو ہمیشہ قومی قیادت اور علمائے کرام و کارکنان کے ہمراہ قومی پلیٹ فارم سے مربوط رہی انکی قومی و ملی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی ۔
حجت الاسلام عارف حسين واحدي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے کہا : تشیع کی پوری تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے اور ارض پاک کی تشکیل و تعمیر اور سلامتی و دفاع میں اب تک قربانیوں کا یہ تسلسل جاری ہے۔

انہوں نے بیان کیا : ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی سماجی و مذہبی شخصیت جو ہمیشہ قومی قیادت اور علمائے کرام و کارکنان کے ہمراہ قومی پلیٹ فارم سے مربوط رہی انکی قومی و ملی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی اور ان کو یاد کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نوجوان ان کے دیئے ہوئے رہنما اصولوں کو مشعل راہ بنائیں ۔

حجت الاسلام عارف واحدی نے کہا :  انکی ۲۱ ویں برسی کے موقع پر ان کی ملی و قومی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذہب و ملت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا جائے ، وحدت و یکجہتی کو فروغ دیا جائے ، باہمی پیار و محبت اور الفت کو عام کیا جائے اور باہم متحد ہوکر اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔

انہوں نے وضاحت کی : پیغمبر گرامی اور ائمہ اطہارؑ کی سیرت و تعلیمات کی روشنی میں مظلوم ہونا ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔ اس ملک کے ذمہ دار، مہذب، قانو ن پسند شہری ہونے کے ناطے ہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کر کے پرامن انداز میں ظلم و بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے چلے آرہے ہیں تاہم اسے ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔

شیعہ علماءکونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے بیان کیا : ہر سانحہ کے بعد بلند و بانگ دعوے معمول بن چکے ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیا جاتا جب تک دہشتگردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے اور دہشتگردی کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔

حجت الاسلام عارف واحدی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ملک میں مساجد و امام بارگاہیں، دفاعی و تعلیمی ادارے، بازار اور گلیاں حتیٰ کہ مسافر بھی محفوظ نہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬