22 February 2018 - 22:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435123
فونت
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔
محمد بن سلمان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹر نیشنل نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ سعودی عرب میں جب سے محمد بن سلمان ولیعہد بنے ہیں حکومت مخالفین پر دباؤ شدید بڑھا دیا گیا ہے تاہم سعودی عرب میں کھلا ماحول کا ڈرامہ رچا کر اس ملک کی صورت حال پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں انفرادی و عمومی آزادی کے امور کے عہدیدار کٹیارو نے پیرس میں اس تنظیم کی دو ہزار اٹھارہ کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سعودی عرب میں آزادی دکھاوا کرنے کے لئے اصلات کا اعلان کر رہے ہیں لیکن ہماری نظر میں اصلاحات کا ایک نمونہ عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا تھا اور اس سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی ہونے والی خلاف ورزیوں کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی۔

انھوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کو وہاں سماجی اور سول سوسائٹی پر دباؤ ڈالنے کے عمل پر پردہ ڈالنے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس ملک میں سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس عہدیدار کے مطابق مثال کے طور پر دو ہزار چودہ کے قانون کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مہم کے لئے وضع کیا جانے والا نیا قانون دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ قانون شہری سوسائٹیوں کی سرکوبی کے لئے عمل میں لائے جانے والے اقدام کے دائرے میں تیار کیا گیا جیساکہ شہری و انسانی حقوق کی بیشتر تنظیموں کو ختم کر دیا گیا اور ان تنظیموں کے اراکین جیلوں میں بند ہیں اور ان پر مختلف طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

یمن کے خلاف جنگ کے دائرے میں سعودی جرائم و جارحیت کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل میں مسلح جھڑپوں کے شعبے کی سربراہ نینا والش نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ کا تاوان عام شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ انسانی حقوق کی صورت حال کا ایک المیہ ہے اور اس سے بھی بدتر یہ کہ اس ملک کا مکمل محاصرہ جاری ہے جبکہ سعودی اتحاد کی جانب سے عام شہریوں پر حملے ہو رہے ہیں اور اب تک عام شہریوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

انھوں نے حکومت فرانس سے جنگ یمن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کئے جانے کے دائرے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے اس عہدیدار نے کہا کہ ہماری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب میں امریکہ، برطانیہ اور برازیل کے ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا ہے تاہم اس کا مطلب نہیں نہیں نکل سکتا کہ جنگ یمن میں جرائم کے ارتکاب میں فرانسیسی ہتھیار استعمال نہیں ہوئے ہوں۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ عالمی برادری کی کسی بھی طرح کی روک ٹوک اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے فقدان کے ساتھ انسانیت کے خلاف کھلم کھلا جرائم و جارحیت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬